نظر آرہاہے کہ ملکی معیشت آگے نہیں بڑھ رہی اور حکومت کے تمام دعوے جھوٹے نکلے

0
75
pakalerts.pk
pakalerts.pk

وزیراعظم کے غیرملکی دوروں سے لوگوں کو کچھ فرق نہیں پڑتا، جب عوام اور اداروں کے درمیان خلیج بڑھ جائے تو ملک ترقی نہیں کرتا ، آج 29 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں۔ رہنماء پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا

 مرکزی رہنماء پی ٹی آئی سلمان اکرم راجانے کہا ہے کہ نظر آرہاہے کہ ملکی معیشت آگے نہیں بڑھ رہی اور حکومت کے تمام دعوے جھوٹے نکلے،وزیراعظم کے غیرملکی دوروں سے لوگوں کو کچھ فرق نہیں پڑتا۔انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتت ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ موقع ہے سب کو متحد کیا جائے اور سہیل آفریدی کو حکومت کرنے دی جائے، صوبے میں بہت سی اصلاحات ہیں جو ہونی چاہئے، معاملات کو بہتری کی طرف لے کر جانا چاہئے، کوئی وجہ نہیں کہ ملک میں انتشار بڑھے ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کا تاریخی رول ہونا چاہئے کہ ہم آئین قانون حق سچ کی بات کرتے رہیں۔ وثوق سے کہتا ہوں 6ماہ قبل جہاں خاموشی نظر آتی تھی آج وہاں خاموشی نہیں ہے، نظر آرہاہے کہ نہ ملکی معیشت آگے نہیں بڑھ رہی، حکومت کے تمام دعوے جھوٹے نکلے۔

کوئی ملک ترقی نہیں کرتا جب عوام اور اداروں کے درمیان خلیج قائم ہوجائے۔ لیکن فتح سچ کو نصیب ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کی 29فیصد آبادی بے روزگار ہے۔ پچھلے سال پاکستان میں کم ترین سرمایہ کاری آئی۔ 

اس سے قبل اکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ عمران خان سے ملاقات نہ ہونے دینا توہین عدالت ہے اس کے خلاف پہلے بھی ہم نے درخواستیں دائر کیں اب پھر کریں گے۔ چیف جسٹس یحیی آفریدی کی ایک سالہ کارکردگی کے سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں کی عدالت عظمیٰ کا آئینی بنچ یہ کہتا ہے کہ سویلینز کا ٹرائل ملٹری کورٹ کر سکتی ہیں اس سے قبل یوگنڈا ایک ملک تھا جہاں یہ اجازت تھی لیکن اس کو بھی وہاں کی سپریم کورٹ نے ختم کردیا۔

سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کا 8 ججز کا فیصلہ اسی دور میں رد ہوا، پہلی بار ایک فیصلہ جس میں کوئی ناانصافی نہیں ہوئی تھی ریویو میں رد کر کے پی ٹی آئی کی نشستیں دوسری جماعتوں میں تقسیم کرکے ستائیسویں ترمیم کی راہ ہموار کی گئی، آپ سیاسی گفتگو کو روک نہیں سکتے، آپ کس طرح انسانوں کی زبان بند کر سکتے ہیں؟ آرٹیکل 265 جو 1978ء کے رولز میں شامل کیا گیا تھا یہ مارشل لاء کے زمانے کا رول ہے، انگریزوں کے وقت میں بھی ایسا رول نہیں تھا۔