’’پاک افغان سیز فائر معاہدے کی سب سے زیادہ مایوسی بھارت کو ہوئی‘‘

0
84
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

دوحہ (19 اکتوبر 2025): قطر میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات کے نتیجے میں طے پانے والے سیز فائر معاہدے نے خطے میں نئی سفارتی فضا پیدا کر دی ہے — تاہم اس معاہدے سے سب سے زیادہ مایوسی بھارت کو ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات قطری انٹیلی جنس چیف عبداللہ بن محمد الخلیفہ کی میزبانی میں دوحہ میں منعقد ہوئے، جن کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا۔ ماہرین کے مطابق یہ پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پاکستان کا سب سے اہم مطالبہ تسلیم کر لیا گیا، جس کے تحت افغان سرزمین سے دہشت گردی بند کرنے پر اتفاق ہوا۔ پاکستان نے یہ مذاکرات پوزیشن آف اسٹرینتھ (Position of Strength) سے کیے، اور پاک فوج کے زمینی اقدامات کے بعد افغان فریق پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، افغانستان کو اس معاہدے سے چہرہ بچانے کا موقع ملا، جب کہ معاہدے کی تفصیلات عوام سے پوشیدہ رکھی گئیں۔ یہ معاہدہ دراصل پاکستان کے جائز مطالبات کی جیت ہے۔

ذرائع کے مطابق، پاکستان اور افغانستان کے وفود 25 اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں دوبارہ ملاقات کریں گے، جہاں مزید تفصیلی امور پر گفتگو کی جائے گی۔

واضح رہے کہ مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی دوحہ میں قطر کے انٹیلی جنس چیف نے کی تھی، جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی، جب کہ افغان وفد کی سربراہی وزیر دفاع ملا محمد یعقوب کر رہے تھے۔
پاکستانی وفد کے ساتھ سیکیورٹی حکام بھی شریک تھے جنہوں نے مذاکراتی عمل میں معاونت کی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان کے مؤقف کی تائید ہے بلکہ بھارت کی علاقائی سازشوں کے خاتمے کا واضح اشارہ بھی دیتا ہے۔