پاکستان اور چین کے درمیان 8.5 ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط

0
105
paklerts.pk

بیجنگ: وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان 8 ارب 50 کروڑ ڈالر مالیت کے مشترکہ منصوبوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں، جو دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک ’’لانگ مارچ‘‘ ثابت ہوں گے۔


معاہدوں کی تفصیل

وزیرِاعظم آفس کے میڈیا ونگ کے مطابق:

  • پاکستانی اور چینی جوائنٹ وینچر پارٹنرز کے درمیان 1.5 ارب ڈالر کے منصوبوں پر دستخط ہوئے۔
  • کاروباری رہنماؤں کے درمیان 7 ارب ڈالر مالیت کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

مجموعی طور پر یہ معاہدے اور یادداشتیں دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کے فروغ کی جانب ایک بڑا قدم ہیں۔


شہباز شریف کا موقف

وزیرِاعظم نے چینی کاروباری شخصیات سے ملاقات میں کہا:

  • پاکستان سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
  • صنعتی تعاون سی پیک کے دوسرے مرحلے کی ترقی کا اہم ستون ہے۔
  • خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) سرمایہ کاری تیز کرنے، رکاوٹوں کو دور کرنے اور بزنس ٹو بزنس تعاون کو مضبوط بنانے کا بہترین پلیٹ فارم ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چینی سرمایہ کار خصوصی اقتصادی زونز میں صنعتوں کو منتقل کرنے کے لیے پاکستان کو اپنی ترجیحی سرمایہ کاری کی منزل سمجھیں۔


ملاقاتوں میں زیرِ غور شعبے

بیجنگ میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے دوران دونوں ممالک نے مندرجہ ذیل شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا:

  • ٹیکسٹائل
  • انفارمیشن ٹیکنالوجی
  • زراعت
  • صنعت و معدنیات
  • سڑک و ڈیجیٹل روابط
  • ای کامرس
  • خلائی ٹیکنالوجی

وزیرِاعظم نے چینی کمپنیوں کو بتایا کہ پاکستان کی حکومت سرمایہ کاروں کے لیے ٹیکس مراعات، ویزا سہولتوں اور بڑے ہوائی اڈوں پر خصوصی سروس بوتھس کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔


پاکستان کا تقابلی فائدہ

وزیرِاعظم شہباز شریف کے مطابق پاکستان سرمایہ کاری کے لیے منفرد تقابلی فائدے رکھتا ہے:

  • ہنرمند اور کم لاگت افرادی قوت
  • کم لاگت خام مال کی دستیابی
  • علاقائی و عالمی منڈیوں سے اسٹریٹجک روابط

📌 وزیرِاعظم نے چینی سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری نہ صرف روزگار اور اقتصادی ترقی کو فروغ دے گی بلکہ خطے میں جدت، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے سی پیک وژن کو بھی تقویت بخشے گی۔