پاکستان میں گزشتہ 3 سالوں میں 5 ہزار ارب روپے کی کرپشن ہونے کا دعوٰی

0
38
pakalerts.pk
pakalerts.pk

آئی ایم ایف کے مطابق ایف بی آر سمیت دیگر ادارے سیاسی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں، پچھلے 3 سال میں 5 ہزار ارب روپے کی کرپشن ہوئی، جو کسی کو نظر نہیں آتی، مشیر خزانہ خیبرپختونخواہ

مشیر خزانہ خیبرپختونخواہ نے دعوٰی کیا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ 3 سالوں میں 5 ہزار ارب روپے کی کرپشن ہونے کا دعوٰی، آئی ایم ایف کے مطابق ایف بی آر سمیت دیگر ادارے سیاسی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں، پچھلے 3 سال میں 5 ہزار ارب روپے کی کرپشن ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق مشیرِ خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پچھلے 3 سال میں 5 ہزار ارب روپے کی کرپشن ہوئی، جو کسی کو نظر نہیں آتی۔

حکومت نے پچھلے سال ایک رپورٹ جاری کی تھی، جس میں بہت کچھ ہے، اس رپورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کچھ چیزیں شائع کی گئی ہیں۔ یہ رپورٹ آئی ایم ایف کے حکم سے جاری کی گئی ہے، رپورٹ 186 صفحات پر مشتمل ہے جس میں حکومت کی کرپشن شائع کی گئی ہے، اس رپورٹ کے آنے کے بعد ابھی تک حکومت کی جانب سے کسی نے پریس کانفرنس نہیں کی۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے قرض پروگرام کی شرط کے طور پر پاکستان کے لیے گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بدعنوانی تاحال ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے جو معاشی سرگرمیوں اور ادارہ جاتی کارکردگی کو متاثر کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کرپشن کے باعث ریاستی اداروں کا کنٹرول کمزور ہوتا ہے جبکہ ٹیکسوں کا درست اور شفاف استعمال یقینی نہیں ہو پاتا جس کے نتیجے میں مجموعی ٹیکس آمدن متاثر ہوتی ہے، بدعنوانی کے سبب قانونی نظام پر عوام کا اعتماد بھی شدید متاثر ہوتا ہے۔آئی ایم ایف نے نشاندہی کی کہ بدعنوانی سرکاری کمپنیوں کو خسارے کی طرف دھکیلتی ہے جبکہ پیچیدہ اور ضرورت سے زیادہ ریگولیشنز معیشت کی رفتار کو جکڑ دیتی ہیں، ٹیکس اور کسٹم اہلکار اپنی صلاحیت کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا پاتے جس سے نظامی کمزوری بڑھتی ہے۔

ادارے نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان میں ضرورت سے زیادہ ریگولیشن اور رکاوٹیں ہر شعبے کی ترقی کو متاثر کر رہی ہیں، اکثر معاملات مشاورت یا انتظامی سطح پر حل ہونے کے بجائے عدالتوں کا رخ کر لیتے ہیں جہاں بے تحاشہ زیر التوا مقدمات کے باعث فیصلے تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس کا براہِ راست اثر معاشی سرگرمیوں اور کاروباری ماحول پر پڑتا ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نظامی اصلاحات، شفافیت کے فروغ اور موثر حکمرانی پاکستان کی معاشی بہتری کے لیے ناگزیر ہیں۔70برس سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود، بدعنوانی اب بھی پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ یہ سرکاری فنڈز کو موڑ دیتی ہے، منڈیوں کو بگاڑتی ہے، منصفانہ مسابقت میں رکاوٹ بنتی ہے، عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو محدود کرتی ہے۔

بدعنوانی پاکستان کے نظامِ حکمرانی کی ایک مسلسل اور تباہ کن خصوصیت ہے، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ اس کا الزام تمام سابقہ حکومتوں اور آمروں پر یکساں طور پر عائد ہوتا ہے جو برسراقتدار رہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ عدلیہ سمیت اہم اداروں پر قبضہ اور بدعنوانی کے معاملات میں عدم احتساب اس رجحان کو مزید بڑھاتا ہے، جس کے باعث بدعنوانی سے حاصل شدہ سرمایہ بیرونِ ملک منتقل ہو جاتا ہے، جو پاکستان میں زیادہ پیداواری طریقے سے استعمال ہو سکتا تھا۔

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کا عدالتی شعبہ ساخت کے اعتبار سے پیچیدہ ہے اور کارکردگی کے مسائل، فرسودہ قوانین، اور ججز و عدالتی عملے کی دیانت داری سے متعلق چیلنجز کے باعث نہ تو معاہدوں کو موثر طور پر نافذ کر پاتا ہے اور نہ ہی املاک کے حقوق کا مؤثر تحفظ کر سکتا ہے۔ بدعنوانی کے خطرات احتسابی اداروں کے باہمی انتشار اور ان کی عملی خودمختاری کی محدودیت کے باعث مزید بڑھ جاتے ہیں۔