پاکستان میں رواں سال خشک سالی یا ریکارڈ سردی سے متعلق این ڈی ایم اے کی رپورٹ

0
77
pakalerts.pk
pakalerts.pk

ملک میں بارشیں معمول سے کم ہوں گی جبکہ بالائی علاقوں میں برف باری بھی کم متوقع ہے

پاکستان میں رواں سال خشک سالی یا ریکارڈ سردی سے متعلق این ڈی ایم اے کی رپورٹ، ملک میں بارشیں معمول سے کم ہوں گی جبکہ بالائی علاقوں میں برف باری بھی کم متوقع ہے۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پاکستان میں رواں سال خشک سالی یا ریکارڈ سردی کا کوئی امکان نہیں۔ تاہم، ملک میں بارشیں معمول سے کم ہوں گی جبکہ بالائی علاقوں میں برف باری بھی کم متوقع ہے۔ادارے کے مطابق مون سون کے دوران 23 فیصد اضافی بارشوں کے باعث سردیوں میں پانی کی کمی کا خدشہ نہیں ہوگا۔ این ڈی ایم اے نے واضح کیا کہ خشک سالی کی نوعیت صرف بلوچستان کے چند علاقوں تک محدود رہے گی، جہاں خاران، چاغی اور نوشکی میں ہلکی نوعیت کی موسمی خشک سالی متوقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق لانینا کے اثرات کے باعث رواں سال ریکارڈ سردی نہیں پڑے گی، تاہم دسمبر اور جنوری کے مہینے معمول سے زیادہ ٹھنڈے رہنے کا امکان ہے۔این ڈی ایم اے حکام کا کہنا ہے کہ معمول سے کچھ زیادہ سردی اور خشکی محسوس کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بارشوں میں کمی سے فضائی معیار متاثر ہو سکتا ہے، جس سے سانس اور دیگر بیماریوں میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب لاہور کی فضائی آلودگی میں انتہائی خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت کو آج بھی دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار دے دیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق محکمہ ماحولیات پنجاب نے بتایا کہ لاہور کا ائیر کوالٹی انڈیکس 358 تک پہنچ چکا ہے، لاہور کا آلودہ ترین علاقہ ملتان روڈ رہا جہاں اے کیو آئی 500 رکارڈ کیا گیا، جی ٹی روڈ پر 500، شاہدرہ پر 391 اور سفاری پارک کا اے کیو آئی 377 ریکارڈ کیا گیا، کاہنہ کا اے کیو آئی 335 اور پنجاب یونیورسٹی کا 335 ریکارڈ کیا گیا، اسی طرح گوجرانوالہ کا اے کیو آئی 500، سرگودھا کا 347 رٰیکارڈ ہوا، فیصل آباد کا اے کیو آئی 306، ملتان کا 304 اور ڈی جی خان کا 244 ریکارڈ کیا گیا۔بتایا جارہا ہے کہ موسم کی موجودہ صورتحال میں طبی ماہرین نے شہریوں کو ماسک کے استعمال اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، جب کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر انسدادِ سموگ آپریشن میں مزید تیزی لائی جا رہی ہے، لاہور، شیخوپورہ، قصور اور گوجرانوالہ میں اینٹی سموگ سکواڈز کو فعال کیا گیا ہے، محکمۂ زراعت کو بھارتی طرز پر سٹبل برننگ کے متبادل اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کردی گئی۔دوسری طرف سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں انسداد سموگ کیلئے اٹھائے گئے ہنگامی اقدامات کے حوصلہ افزا ء نتائج برآمد ہوئے ہیں ، گزشتہ سال ماہ اکتوبر میں سموگ شدت اختیار کر گئی تھی،اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج سموگ کے حوالے سے صورتحال بہتر ہے ،یہی وجہ ہے کہ اب تک نہ لاک ڈاؤن لگانے اور نہ انڈسٹری اور تعلیمی ادارے بند کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں تمام سٹیک ہولڈرز کے تعاون سے سموگ کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور اپنے شہریوں کو آلودگی سے پاک فضا ء کی فراہمی یقینی بنائیں گے،انسداد سموگ کے حوالے سے ملٹی سیکٹورل اپروچ اپنائی گئی ہے،انسداد سموگ کی مہم میں کسان،صنعت کار اور ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔