اسلام آباد (20 ستمبر 2025): وفاقی مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ جو قوتیں سعودی عرب پر حملے کے عزائم رکھتی ہیں وہ یاد رکھیں کہ پاکستان کا ردعمل کیسا ہوگا۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کی بڑی معاشی طاقت سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اگر کسی ایک پر حملہ ہوگا تو اسے دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان عسکری قوت جبکہ سعودی عرب معاشی طاقت ہے، اور جب عسکری و معاشی طاقتیں اکٹھی ہوتی ہیں تو سپر پاور وجود میں آتی ہے۔ انہوں نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب فیصلہ بھارت کو کرنا ہے کہ وہ مذاکرات چاہتا ہے یا مزید رسوائی۔
دریں اثنا وزیر دفاع خواجہ آصف نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ اگر بھارت نے جارحیت کی تو سعودی عرب پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا اور اگر سعودی عرب پر کوئی حملہ ہوا تو پاکستان اس کا دفاع اپنی سرزمین کی طرح کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی معاہدے میں تمام پہلو شامل ہیں جس کے بعد سعودی عرب کا مغربی طاقتوں پر انحصار کم ہوگا۔ سعودی عرب پاکستان کی معاشی ضروریات میں تعاون کرے گا جبکہ پاکستان افرادی قوت فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں مزید مسلم ممالک بھی اس دفاعی اتحاد کا حصہ بن سکتے ہیں۔
رانا ثناء اللہ اور خواجہ آصف دونوں رہنماؤں نے کہا کہ مسلم دنیا کو چاہیے کہ نیٹو طرز کا مشترکہ دفاعی اتحاد قائم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل سے خطرہ موجود ہے لیکن سعودی عرب کی سرزمین کا دفاع پاکستان اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ پاکستان کسی ملک پر جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم اگر حملہ ہوا تو بھرپور دفاع کیا جائے گا۔




























