ایک نئی تحقیق کے مطابق دماغ میں پائے جانے والے ایک خاص پروٹین کی مقدار کم کرنے کے لیے تیار کی جانے والی ادویات مستقبل میں اس قابل ہوسکتی ہیں کہ الزائمر کے مرض کو علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی قابو میں کیا جا سکے۔
الزائمر کی خاموش شروعات
ماہرین کا کہنا ہے کہ الزائمر اکثر برسوں پہلے دماغ پر اثر ڈالنا شروع کر دیتا ہے، مگر مریض کو یادداشت، زبان اور سوچنے کی صلاحیت کم ہونے کا احساس بہت دیر بعد ہوتا ہے، اور اس وقت تک بیماری کو روکنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
نئی تحقیق کی روشنی میں
تحقیق میں سائنس دانوں نے مرض کی ابتدائی نشانیوں کا جائزہ لیتے ہوئے ایک دماغی پروٹین TSPO (Translocator Protein 18 kDA) کو ہدف بنایا، جو یادداشت کھونے یا دماغی کمزوری سے پہلے ہی ظاہر ہو جاتا ہے اور الزائمر کے آغاز میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیق، جو جرنل Acta Neuropathologica میں شائع ہوئی، بتاتی ہے کہ اگر اس پروٹین کو بیماری کے ابتدائی مرحلے میں ہی پہچان لیا جائے تو الزائمر کی پیش رفت کو سست یا کئی برسوں تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کی رائے
فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے محقق ڈاکٹر توماس آر گیولارٹے نے کہا:
"اگر ہم TSPO کو بیماری کے بالکل آغاز میں پکڑ سکیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم علامات کو پانچ یا چھ سال تک مؤخر کر سکتے ہیں۔ یہ پانچ یا چھ سال مریض کو بہتر معیارِ زندگی فراہم کر سکتے ہیں۔”
مزید نتائج
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ دماغ میں TSPO کی موجودگی الزائمر کی سب سے بڑی نشانی امیلوئیڈ پلیکس کے پھیلنے کے آغاز سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ پلیکس بیماری کی سب سے واضح علامت سمجھی جاتی ہیں۔




























