ی پاکستان: عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کی ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز

0
141
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے قید رہنما اور سابق وزیر اعظم عمران خان سمیت دیگر کارکنان کی رہائی کے لیے پانچ اگست بروز منگل سے پورے ملک میں احتجاجی مہم شروع کر دی ہے۔

یہ احتجاج عمران خان کی کرپشن کیس میں گرفتاری کی دوسری برسی کے موقع پر ہو رہا ہے۔

تاہم پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے اس احتجاج سے قبل درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

پی ٹی آئی کے قائدین کا کہنا ہے کہ ان کی احتجاجی تحریک محاذ آرائی نہیں بلکہ انصاف کی جنگ ہے۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ پر الزام لگایا کہ وہ پارٹی کو آئندہ انتخابات سے باہر رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

روزنامہ ڈان کے مطابق، پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ 5 اگست کی احتجاجی کال ابتدائی مرحلہ ہے اور اسے حتمی نہیں سمجھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کی ضلعی قیادت کو ریلیاں، آگاہی کیمپین اور عوامی اجتماعات منعقد کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں اور جب تک "جعلی حکومت” کا خاتمہ نہیں ہوتا، احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قوم کو حق حاصل ہے کہ اس کے اصل نمائندے پارلیمنٹ میں موجود ہوں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد کو تحریک میں شامل کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ عوامی حقوق کی جدوجہد ہے۔

چھاپے اور گرفتاریوں کا الزام

اسد قیصر نے مزید دعویٰ کیا کہ پنجاب اور آزاد کشمیر میں چھاپے مارے گئے ہیں اور مختلف اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔

پی ٹی آئی پنجاب کے میڈیا انچارج شایان بشیر نے سینیٹر علی ظفر کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے تقریباً 200 چھاپے مارے، متعدد کارکنوں کو اٹھایا اور حلف نامے جمع کروا کر رہا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور اور اڈیالہ جیل (راولپنڈی) کے باہر بڑے احتجاج ہوں گے، جب کہ صوبے بھر میں ریلیاں نکالی جائیں گی، جن کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اضلاع سے کارکنان لاہور پہنچ چکے ہیں۔

کیا مذاکرات ممکن ہیں؟

سینیٹر علی ظفر نے مذاکرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ عمران خان نے بظاہر بات چیت کا دروازہ بند کر دیا ہے، مگر سیاست میں فیصلے بدلے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پہلے دو شرائط کے ساتھ مذاکرات کی اجازت دی تھی، مگر حکومت کی جانب سے انکار کے بعد بات چیت ختم ہو گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ قانون کی بالادستی اور عوام کے لیے دس سال جیل کاٹنے کو تیار ہیں، اور "جعلی مقدمات” یا عدالتی تاخیر سے مرعوب نہیں ہوں گے۔

افراتفری کی سیاست: حکومتی ردعمل

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عوام پی ٹی آئی کی احتجاجی کال کو رد کر دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ افراتفری کی سیاست کو عوام شکست دیں گے اور پی ٹی آئی اب ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ریاستی اداروں کو نقصان پہنچانے والا فاشسٹ گروہ بن چکی ہے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جب قوم 5 اگست کو کشمیریوں سے یکجہتی کر رہی ہو گی، ایسے وقت میں پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کرنا قابل مذمت ہے۔

پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کے بیٹے بھی اس تحریک میں شرکت کے لیے پاکستان آئیں گے۔

سورس اردو پوائنٹ