چار جولائی 2025 کو ہینوور کے قریب آرنم شہر میں 26 سالہ تیونسی نرس رحمہ عائد کو ان کے گھر میں قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے ایک جرمن شہری کو، جو ان کا ہمسایہ بھی تھا، موقع پر گرفتار کیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق، ملزم ماضی میں رحمہ کو ان کے حجاب پہننے پر ہراساں کرتا رہا تھا۔
رحمہ ایک بہتر مستقبل کی امید لے کر تیونس سے جرمنی آئی تھیں، لیکن بدقسمتی سے انہیں اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ ان کی موت نے مقامی مسلم کمیونٹی کو گہرے صدمے اور غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس واقعے پر حکومتی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا اور ایسے جرائم کے تدارک کے لیے نئے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔
متاثرہ خاتون کی والدہ کے مطابق رحمہ کو اپنے پڑوسی سے مستقل خطرہ محسوس ہوتا تھا۔ وہ بارہا بتا چکی تھیں کہ وہ شخص ان کے دروازے پر آ کر انہیں ڈراتا دھمکاتا ہے۔
ان کے قریبی دوستوں نے بتایا کہ رحمہ کے لیے حجاب پہننا ایک ذاتی فیصلہ تھا، جس پر وہ دباؤ کے باوجود قائم رہیں۔ افسوسناک واقعے کے روز صبح کے وقت ان کے گھر سے چیخنے کی آوازیں آئیں، لیکن جب ریسکیو ٹیم پہنچی تو رحمہ خون میں لت پت حالت میں مردہ پائی گئیں۔
ان کے جسم پر چھریوں کے گہرے زخم تھے۔ عینی شاہدین نے ایک 31 سالہ جرمن مرد کو خون آلود لباس میں دیکھا، جسے پولیس نے حراست میں لے لیا۔ واقعے کی تفتیش جاری ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ یورپ میں مسلمانوں اور تارکین وطن کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب کی ایک علامت بن چکا ہے۔ "نیٹ ورک اگینسٹ فیمسائڈ” نامی تنظیم نے ہینوور میں احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں انصاف کا مطالبہ کیا گیا تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کو روکا جا سکے۔
یہ جرم نہ صرف ایک انفرادی المیہ ہے بلکہ جرمنی میں روز بروز بڑھتے ہوئے چاقو حملوں، مذہبی امتیاز اور تارکین وطن کے خلاف نفرت کا ایک واضح ثبوت ہے۔ اخبار بلڈ کے مطابق جرمنی میں روزانہ اوسطاً 79 پرتشدد حملے ہوتے ہیں، جب کہ 2024ء میں چاقو سے ہونے والے جرائم میں 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ حملے اکثر دائیں بازو کی شدت پسندی سے جڑے ہوتے ہیں، جو نسلی، مذہبی اور ثقافتی اختلافات کو نشانہ بناتے ہیں۔ اگرچہ لوئر سیکسنی کو ایک محفوظ اور ہم آہنگ ریاست سمجھا جاتا ہے، لیکن اس قسم کا واقعہ وہاں مقیم غیر ملکیوں کے لیے سخت تشویش کا باعث ہے۔
جرمن حکومت نے چاقو جیسے اوزاروں پر قابو پانے کے لیے سخت قوانین پر غور کیا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ چھری یا چاقو ہر گھر میں موجود ہوتا ہے اور ان پر مکمل پابندی ممکن نہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ صرف قوانین اور سزاؤں پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ معاشرتی رویوں میں بھی بہتری لائی جائے۔ رحمہ جیسی خواتین، جو دوسروں کی خدمت کے جذبے سے جرمنی آتی ہیں، ان کے ساتھ نفرت پر مبنی رویہ معاشرتی بیماری کی علامت ہے۔
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ اگر جرمن معاشرہ مذہبی آزادی اور رواداری پر یقین رکھتا ہے، تو پھر حجاب جیسے ذاتی فیصلے پر جان لینے جیسا رویہ کیسے پیدا ہوتا ہے؟
کئی غیر ملکی خواتین کے لیے جرمنی کا عدالتی نظام اس لیے قابل احترام ہے کہ وہ متاثرہ خاتون کو نہیں بلکہ مجرم کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔ لیکن رحمہ کا قتل اس تصور کی نفی کرتا ہے۔ اگر کہیں حجاب نہ پہننے پر تنقید ہوتی ہے تو یہاں حجاب پہننے پر جان لے لی گئی، جو حقوق نسواں اور مذہبی آزادی دونوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
جرمنی میں ٹرین اسٹیشن، بس اسٹاپ اور سپر مارکیٹ جیسے مقامات پر چاقو کے حملے اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ اس لیے ہر فرد کو چوکنا رہنا چاہیے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر دینا چاہیے۔ چاہے اسکول ہو، دفتر یا محلہ، ہراسانی کا سامنا ہو تو رپورٹ کرنا ضروری ہے۔
حکومتی سطح پر نسلی اور مذہبی امتیاز کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنانا ناگزیر ہے، خاص طور پر میڈیا، تعلیم اور کھیلوں کے میدانوں میں۔ خواتین کے لیے خود حفاظتی تربیت، آگاہی کورسز اور معاونت کے پروگرامز شروع کرنا بھی اہم قدم ہوگا۔
مسلم کمیونٹی کو بھی اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے میں فعال کردار ادا کرنا ہو گا۔ آپس میں اتحاد، قانون کی پاسداری اور مثبت طرز عمل سے دوسروں کو متاثر کرنا چاہیے۔ بعض اوقات قوانین سے لاعلمی یا معمولی غلطی بھی پوری کمیونٹی کے لیے منفی تاثر پیدا کرتی ہے۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ امتیازی سلوک یا تعصب کا سامنا ہونے پر خاموش نہ رہیں، بلکہ اپنے حقوق سے آگاہ رہتے ہوئے پرامن قانونی طریقے سے آواز بلند کریں۔ ملکی زبان سیکھنا، رواداری پر مبنی گفتگو کو فروغ دینا اور مذہبی آزادی کا تحفظ بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے۔
ہم سب کو مل کر یہ عہد کرنا ہوگا کہ رحمہ جیسے سانحے کو نہ صرف یاد رکھا جائے بلکہ دوبارہ ہونے نہ دیا جائے۔ ان کی قربانی کو رائیگاں جانے سے بچانے کے لیے سنجیدہ اور اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے۔
نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
سورس اردو پوائنٹ




























