ایٹمی فیوژن کو دہائیوں سے توانائی کا سب سے بہترین اور لامحدود ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ صاف ستھرا، طاقتور اور ماحول دوست ہے۔ عموماً فیوژن ری ایکٹر بنانے کے لیے انتہائی بڑے اور مہنگے مشینری سسٹمز درکار ہوتے ہیں جو سورج کی طرح شدید حرارت اور دباؤ پیدا کرتے ہیں۔
لیکن کینیڈا کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا (UBC) کی ایک ٹیم نے حیران کن طور پر ایک نیا راستہ نکالا ہے — ایسا راستہ جو ایک چھوٹی لیب بینچ پر رکھا جا سکتا ہے۔
نیا تجربہ: روم ٹمپریچر فیوژن ری ایکٹر
یہ تجربہ، جو جریدے نیچر (Nature) میں شائع ہوا، ایک کمپیکٹ فیوژن ری ایکٹر پر مبنی ہے جو کمرہ درجہ حرارت پر چلتا ہے۔
- مقصد یہ نہیں کہ فوراً بڑے پیمانے پر بجلی پیدا کی جائے۔
- بلکہ اس ری ایکٹر کا اصل مقصد فیوژن کے عمل کو مزید مؤثر بنانا ہے، تاکہ زیادہ توانائی حاصل ہو سکے۔
ایندھن: ڈیوٹیریم (بھاری ہائیڈروجن)
فیوژن کے لیے سائنسدان ڈیوٹیریم (ہائیڈروجن کی بھاری شکل) استعمال کرتے ہیں۔
UBC کی ٹیم نے ایک نیا طریقہ بنایا جس میں:
- پلازما فیلڈ لوڈنگ
- الیکٹروکیمیکل لوڈنگ
دونوں کو اکٹھا کر کے ڈیوٹیریم کو ایک دھات (پیلیڈیم) میں بھر دیا جاتا ہے۔
زیادہ ڈیوٹیریم بھرنے کا مطلب ہے کہ ڈیوٹیریم ایٹمز کے آپس میں ٹکرانے اور فیوژن ہونے کا امکان زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
پروفیسر کی وضاحت
پراجیکٹ کے سربراہ پروفیسر کرٹس پی برلنگیوٹی کے مطابق:
"ہمارا مقصد ایندھن کی کثافت بڑھانا اور ڈیوٹیریم-ڈیوٹیریم ٹکراؤ کے امکانات میں اضافہ کرنا ہے تاکہ فیوژن ایونٹس زیادہ ہوں۔”
یہ طریقہ کمال کا کیوں ہے؟
عام فیوژن ری ایکٹرز کو زمین کے دباؤ سے 800 گنا زیادہ دباؤ چاہیے۔
لیکن UBC کی ٹیم نے صرف 1 وولٹ بجلی استعمال کر کے وہی اثر پیدا کر دیا — یعنی انتہائی سادہ اور کم خرچ حل!
Thunderbird ری ایکٹر: چھوٹا مگر انقلابی
اس نئے آلے کو "تھنڈر برڈ ری ایکٹر” کہا گیا ہے۔
یہ چھوٹا سا آلہ تین اہم حصوں پر مشتمل ہے:
- پلازما تھرسٹر
- ویکیوم چیمبر
- الیکٹروکیمیکل سیل
یہ سب مل کر ڈیوٹیریم کو پیلیڈیم میں بھرتے ہیں، جہاں فیوژن کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
مستقبل کا اشارہ؟
یہ ری ایکٹر فی الحال بڑے پیمانے پر بجلی پیدا نہیں کر سکتا، لیکن اس کی کامیابی یہ دکھاتی ہے کہ فیوژن توانائی کو مستقبل میں زیادہ سستا، محفوظ اور قابلِ عمل بنایا جا سکتا ہے — اور وہ بھی بغیر دیوہیکل مشینوں کے۔




























