لاہور (8 ستمبر 2025): حالیہ سیلاب نے جہاں قیمتی جانوں اور انفرا اسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے، وہیں پنجاب میں زرعی شعبہ بھی تباہی کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 18 لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں مکمل طور پر برباد ہو گئیں، جس کے باعث مستقبل قریب میں گندم، چاول، گنا اور سبزیوں کا سنگین بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں تباہی مچانے کے بعد یہ سیلابی ریلے پنجاب کے 28 اضلاع میں تباہی کے نئے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے تیزی سے سندھ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس دوران فصلوں کے ساتھ ساتھ مچھلی فارم بھی متاثر ہوئے اور ہزاروں مزدور روزگار سے محروم ہو گئے ہیں۔
پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت پر کسانوں کا اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ اگر حکومت واقعی کسانوں کو سہارا دینا چاہتی ہے تو کھاد، بیج، ڈیزل اور زرعی ضروریات کی اشیا مفت فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر گندم کی کاشت کو محدود یا ریگولیٹ کرنے کی پالیسی جاری رہی تو کاشتکار آئندہ سال گندم کاشت نہیں کریں گے، جس کے نتیجے میں ملک میں فوڈ سیکیورٹی کا سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر گندم ذخیرہ کرنے کے اقدامات کرے تاکہ آنے والے دنوں میں قحط یا قلت کی صورتحال سے بچا جا سکے۔




























