اداروں کو بُرا بھلا کہنے اور الزامات لگانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، آپس میں بیٹھ کر معاملات حل کرلیں؛ ایاز صادق کا اپوزیشن سے مکالمہ
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حکومت اور اپوزیشن کو ایک بار پھر سے مذاکرات کا مشورہ دیدیا۔ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران انہوں نے مذاکرات کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے اپوزیشن کو مخاطب کرکے کہا کہ پہلے بھی کچھ اقدامات کیے تھے لیکن صلہ اچھا نہیں ملا تاہم اداروں کو بُرا بھلا کہنے اور الزامات لگانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، آپس میں بیٹھ کر معاملات حل کرلیں، اس سلسلے میں عامر ڈوگر کو خط لکھا ہے، حکومت سے بھی گزارش کروں گا، آپ لوگ مشورہ کرلیں اور سوچ لیں کہ کیا کرنا ہے۔بتایا گیا ہے کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے رکن قومی اسمبلی و چیف وہپ حزب اختلاف ملک عامر ڈوگر کو خط ارسال کردیا گیا، خط میں چیف وہپ حزب اختلاف سے سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان کے کیسز کی عدالت میں زیر التواء نہ ہونے سے متعلق تحریری وضاحت طلب کی ہے، خط میں ملک عامر ڈوگر سے سابق قائدِ حزبِ اختلاف سے متعلق عدالت میں زیر سماعت مقدمات کی تازہ صورتحال مانگی گئی ہے، اپوزیشن کی جانب سے سیکرٹریٹ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ عمر ایوب خان کے کیسز زیر التواء نہیں، تاہم اس کی تحریری تصدیق نہیں کی گئی۔ترجمان قومی اسمبلی نے بتایا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کی نامزدگی کا عمل مکمل کرنے کے لیے تحریری معلومات ضروری ہیں، خط میں چیف وہیپ حزب اختلاف سے سابق اپوزیشن لیڈر سے متعلق عدالتوں میں زیر التواء کیسز کی موجودہ صورتحال فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے، عمر ایوب خان کے ان مقدمات میں سیکریٹریٹ کو بطور فریق شامل کیا گیا ہے، قائدِ حزبِ اختلاف کے تقرر کا مقررہ طریقہ کار تحریری تصدیق موصول ہونے پر آگے بڑھایا جا سکتا ہے، چیف وہپ حزب اختلاف سے کہا گیا ہے کہ معاملے کی جلد تکمیل کے لیے مطلوبہ دستاویزات ارسال کی جائیں۔




























