سپریم کورٹ کا بیرسٹر سلمان صفدر کی آج ہی عمران خان سے ملاقات کرانے کا حکم

0
16
pakalerts.pk
pakalerts.pk

سلمان صفدر فرینڈ آف دی کورٹ مقرر، انہیں جیل کے باہر انتظار نہ کرایا جائے، توقع ہے کہ احترام کے ساتھ ہمارے فرینڈ آف دی کورٹ کو عمران خان تک رسائی دی جائے گی؛ چیف جسٹس کے ریمارکس

سپریم کورٹ نے بیرسٹر سلمان صفدر کی آج ہی سابق وزیراعظم عمران خان سے جیل میں ملاقات کرانے کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی مینں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی جہاں سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کردیا اور حکم دیا کہ سلمان صفدر جائیں اور عمران خان کی جیل میں حالت زار بارے تحریری رپورٹ دیں۔عدالتی حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ کیس میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان پیش ہوئے، 24 اگست 2023 کے حکمنامے کے تحت جو رپورٹ جمع کرائی گئی اس وقت عمران خان اٹک جیل میں تھے، یہ مناسب ہے کہ عمران خان کی لیونگ کنڈیشن بارے بارے رپورٹ منگوائی جائے، اس مقصد کیلئے سلمان صفدر بطور فرینڈ آف دی کورٹ اڈیالہ جیل جائیں، سلمان صفدر کو عمران خان کی جیل بریک تک رسائی دی جائے تاکہ وہ تحریری جواب داخل کر سکیں اور کل تک تحریری رپورٹ فرینڈ آف دی کورٹ سلمان صفدر جمع کرائیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ’ذہن میں رکھیں سلمان صفدر فرینڈ آف دی کورٹ ہیں انہیں جیل کے باہر انتظار نہ کرایا جائے، توقع ہے کہ احترام کے ساتھ ہمارے فرینڈ آف دی کورٹ کو اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے گی، فرینڈ آف دی کورٹ کو کوئی بھی مسئلہ ہو تو میرا ذاتی سٹاف آفسر موجود ہے‘، سلمان صفدر نے استفسار کیا کہ ’کیا میری رپورٹ جمع کرانے کا سکوپ صرف لیونگ کنڈیشن تک ہی محدود ہے؟ آنکھ کے طبعی معائنہ کے بعد بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق کچھ خدشات موجود ہیں‘، اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ’لیونگ کنڈیشن کی رپورٹ چیمبر میں جمع کرائیں‘۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے استدعا کی کہ ’عدالتی حکم میں زکر کردیں ہم نے رپورٹ جمع کرا دی تھی‘، سماعت کے اختتام پر ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ بھی روسٹرم پر آگئے اور انہوں نے عدالت سے ستدعا کہ کہ ’مجھے بھی ملاقات کی اجازت دی جائے‘، تاہم سپریم کورٹ نے لطیف کھوسہ کو ملاقات کی اجازت دینے کی استدعا مسترد کردی اور آج ہی سلمان صفدر کو اڈیالہ جیل جانے کا حکم دیدیا جب کہ کیس کی سماعت پرسوں تک ملتوی کردی گئی۔