اسلام آباد (19 نومبر 2025): سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے معاملے پر جسٹس جمال مندوخیل نے اکثریتی فیصلے کے خلاف اپنا 12 صفحات پر مشتمل اختلافی فیصلہ جاری کر دیا۔ انہوں نے قرار دیا کہ 41 مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کا حق بنتی ہیں اور اس حوالے سے اکثریتی فیصلہ درست نہیں تھا۔
جسٹس مندوخیل کے مطابق عدالت کو 41 امیدواروں کو آزاد قرار دینے کا اختیار نہیں تھا، نہ ہی یہ معاملہ عدالت کے سامنے زیرِ التوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اکثریتی بینچ نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا اور سیاسی وابستگی تبدیل کرنا عدالت کا کام نہیں۔
انہوں نے اپنے اصل فیصلے میں 39 نشستوں کا مؤقف برقرار رکھا جبکہ 41 نشستوں سے متعلق اکثریتی فیصلے کو ریویو میں تبدیل کر دیا۔
واضح رہے کہ سابق جج جسٹس منصور علی شاہ نے اکثریتی فیصلے میں 41 امیدواروں کو آزاد قرار دیا تھا۔ 27 جون 2025 کو سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ بحال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو ان نشستوں سے محروم کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے نظر ثانی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور الیکشن کمیشن کو 80 امیدواروں کی درخواستیں دوبارہ سننے کی ہدایت کی۔ 7-3 کے تناسب سے نظر ثانی درخواستیں منظور کی گئیں۔ جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی نے مختلف نوعیت کے اختلافات ریکارڈ کرائے۔




























