ٹیم کے بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی بلنڈر قرار، گوتم گمبھیر تنقید کی زد میں آگئے

0
47
pakalerts.pk
pakalerts.pk

سوریا کمار یادیو کو اپنا بہترین بیٹر ہونے کے ناطے آزمانا ٹرائل اینڈ ایرر جیسا نہیں ہونا چاہیے تھا : ڈیل سٹین

 جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ٹی20 میچ میں بھارت کو 51 رنز سے شکست کے بعد گوتم گمبھیر کے فیصلوں پر سوالات اٴْٹھنے شروع ہوگئے ۔ گوتم گمبھیر کو کھلاڑی سوریاکمار یادیو کے بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

میڈیارپورٹ کے مطابق میچ میں بھارت کی پوری بیٹنگ لائن بیک وقت پویلین لوٹتی ہوئی دکھائی دی وہیں بولنگ بھی مؤثر ثابت نہیں ہوئی، خاص طور پر گمبھیر کے بار بار بیٹنگ آرڈر تبدیل کرنے کے فیصلے نے سابق کرکٹرز کو بھی حیران اور پریشان کر دیا ہے۔

سابق بھارتی بلے باز رابن اتھپا نے کہا کہ پری سیزن پریس کانفرنس میں کہا گیا تھا کہ اوپننگ بیٹرز طے شدہ ہیں لیکن حقیقت میں ایسی کوئی ترتیب نظر نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ جب بڑا ہدف چیز کرنا ہو تو مضبوط بیٹرز کو موقع دینا چاہیے نہ کہ پِنچ ہِٹر کی طرح کسی کو پہلے نمبروں پر بھیجا جائے، اگر بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کرنی ہے تو اسے حکمت عملی کے تحت کرنا چاہیے، ورنہ بیٹنگ یونٹ بیسمت دکھائی دیتا ہے۔

جنوبی افریقہ کے سابق کھلاڑی ڈیل اسٹین نے بھی گمبھیر کے فیصلے کو اہم غلطی قرار دیا ہے۔ڈیل اسٹین نے اپنے بیان میں کہا کہ سوریاکمار یادیو کو اپنا بہترین بیٹر ہونے کے ناطے آزمانا ٹرائل اینڈ ایرر جیسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہی موقع پر دو بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کو آغاز کے آرڈر میں بھیجنا بھی حیران کٴْن تھا، خاص طور پر جب ٹیم کو میچ جیتنے کے لیے استحکام کی ضرورت تھی، اگر پِنچ ہِٹنگ کی پلاننگ تھی تو وہ مناسب صورتحال میں ہونی چاہیے تھی۔

واضح رہے کہ بھارت کو افریقا کے ہاتھوں اس شکست سے ناصرف سیریز میں توازن کھونے کا خطرہ ہے بلکہ ٹیم کے انتخاب اور حکمتِ عملی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔