ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن، جو اس وقت امریکی سینیٹ کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں، طویل عرصے سے اسکولوں میں دعا کے حامی رہے ہیں۔ اب وہ یہ طے کرنے پر تُلے ہوئے ہیں کہ ریاست کے 60 لاکھ پبلک اسکول طلبہ کس قسم کی دعا پڑھیں۔
پیکسٹن کا بیان
پیکسٹن نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا:
"ٹیکساس کے کلاس رومز میں ہم چاہتے ہیں کہ خدا کا کلام کھولا جائے، دس احکامات نمایاں کیے جائیں اور دعائیں بلند ہوں۔”
انہوں نے طلبہ کو خاص طور پر "لارڈز پریئر (The Lord’s Prayer)” پڑھنے کی ترغیب دی، جیسا کہ عیسیٰ مسیح نے سکھائی تھی۔ پریس ریلیز میں بائبل کے کنگ جیمز ورژن سے یہ پوری دعا بھی شامل کی گئی تھی۔
یہ اقدام پیکسٹن اور دیگر ٹیکساس حکام کے جانب سے بار بار عیسائیت کو دیگر مذاہب پر فوقیت دینے کی ایک اور مثال سمجھا جا رہا ہے۔
سخت الفاظ میں تنقید
پیکسٹن نے اپنے بیان میں کہا:
"گمراہ لبرلز سچ کو مٹانا چاہتے ہیں، اس مضبوط بنیاد کو تباہ کرنا چاہتے ہیں جس پر امریکہ کی کامیابی اور طاقت کھڑی ہے، اور ہمارے معاشرے کے اخلاقی ڈھانچے کو برباد کرنا چاہتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا: "ہمارا ملک بائبل کی سچائی پر قائم ہوا تھا، اور میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گا کہ بائیں بازو ہمیں اس کیچڑ میں دھکیل دے۔”
نیا قانون اور تنقید
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سینیٹ بل 11 ٹیکساس میں نافذ ہوا۔ یہ ریپبلکن قانون اسکولوں کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ دورانِ تعلیم "دعا یا بائبل یا دیگر مذہبی متون کی تلاوت” کے لیے وقت مختص کر سکیں۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ بل ریاست کے سیکولر پبلک ایجوکیشن کو عیسائی روایات سے بھرنے کی ایک کوشش ہے، جو امریکی آئین میں موجود چرچ اور ریاست کی علیحدگی کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔
ہیڈی بیریچ، جو "گلوبل پروجیکٹ اگینسٹ ہیٹ اینڈ ایکسٹریمزم” کی شریک بانی ہیں، نے کہا:
"یہ لوگ چرچ اور ریاست کی علیحدگی کو یکسر نظر انداز کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک دوسرے مذاہب کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہاں تک کہ وہ عیسائی بھی جو اس دائیں بازو کی سوچ سے متفق نہیں، ان کی نظر میں بے وقعت ہیں۔ یہ بچوں کو ایک خاص ایجنڈے میں ڈھالنے کی کوشش ہے، جو نہ صرف افسوسناک بلکہ آئین کی پہلی ترمیم کی کھلی خلاف ورزی ہے۔”
’عیسائی قوم‘ کا بیانیہ
بیریچ نے مزید کہا کہ پیکسٹن اور واشنگٹن کے کئی سیاستدان، بشمول ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن، ایسے لوگ ہیں جو یقین رکھتے ہیں کہ امریکہ ایک عیسائی ملک ہے اور عیسائیت کو فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔
پیکسٹن کے دفتر نے یہ واضح کرنے سے گریز کیا کہ آیا وہ واقعی ٹیکساس کے پبلک اسکول طلبہ پر عیسائیت تھوپنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مسلم طلبہ کے معاملے پر دوہرا معیار
دلچسپ بات یہ ہے کہ پیکسٹن کا رویہ اس وقت مختلف تھا جب بات مسلم طلبہ کی آئی۔
2017 میں پیکسٹن کے دفتر نے فریسکو، ٹیکساس کے اسکول سپرنٹنڈنٹ کو ایک خط لکھا، جس میں لیبرٹی ہائی اسکول میں مسلم طلبہ کے نماز پڑھنے کے لیے ایک خالی کمرہ استعمال کرنے پر "تشویش” ظاہر کی گئی۔
خط میں اسکول کے اخبار سے اقتباس دیا گیا جس میں لکھا تھا کہ نماز کا کمرہ "کچھ طلبہ کی مذہبی ضروریات کے لیے مختص” ہے، اور "یہ طلبہ اسلام کے پیروکار ہیں۔”




























