عالمی تجارت پلاسٹک آلودگی بڑھانے کی بجائے کم کرنے میں مدد دے، انکٹاڈ

0
104
Pakalerts.pk

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 01 اگست 2025ء) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) نے کہا ہے کہ ذمہ دارانہ پیداوار اور صرف سے لے کر دائروی اور پائیدار متبادل تک، تجارت کو پلاسٹک کی آلودگی کے مسئلے کو سنگین بنانے کے بجائے اس کے حل میں مددگار ہونا چاہیے۔

بین الاقوامی تجارت کے حوالے سے ادارے کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2023 میں دنیا بھر میں پلاسٹک کی پیداوار 436 ملین میٹرک ٹن تک پہنچ گئی تھی جبکہ اس کی تجارتی قدر نے 1.1 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کیا اور دنیا کی مجموعی تجارت میں اس کا حصہ پانچ فیصد تھا۔

2023 میں غیر پلاسٹک متبادل کی تجارت کا حجم 485 ارب ڈالر رہا اور ترقی پذیر ممالک میں ان چیزوں کی تجارت میں 5.6 فیصد سالانہ اضافہ دیکھا گیا۔پلاسٹک کے یہ متبادل استعمال کے بعد دوبارہ کام میں لائے جا سکتے ہیں یا انہیں کھاد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور عموماً انہیں معدنیات، پودوں یا جانوروں جیسے قدرتی ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے۔

تاہم ان اشیا کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے دنیا کو ٹیرف اور نان ٹیرف جیسے اقدامات، منڈی تک محدود رسائی اور ضابطوں سے متعلق کمزور ترغیبات جیسے مسائل سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

ٹیرف کا نقصان

گزشتہ تین دہائیوں کے عرصہ میں پلاسٹک اور ربڑ کی مصںوعات پر ایم ایف این (موسٹ فیورڈ نیشن) ٹیرف کی اوسط شرح 34 سے 7.2 فیصد تک کم ہوئی ہے۔ اس طرح معدنی ایندھن سے پلاسٹک کی تیاری پر اٹھنے والے اخراجات میں بھی کمی آئی ہے۔ اس سے برعکس بانس، قدرتی ریشوں اور سمندری گھاس جیسے غیرپلاسٹک متبادل پر ایم ایف این ٹیرف کی اوسط 14.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

‘انکٹاڈ’ نے خبردار کیا ہے کہ اس فرق کے باعث پلاسٹک کی متبادل اشیا پر سرمایہ کاری میں کمی آنے، ترقی پذیر ممالک میں اختراع کو نقصان پہنچنے اور معدنی ایندھن پر مبنی پلاسٹک کی تیاری اور استعمال ترک کرنے کی جانب پیش رفت سست ہونے کا خدشہ ہے۔

سورس اردو پوائنٹ