ٹی ایل پی اگر پرتشدد کاروائیوں سے مستقل طور پر پیچھے ہٹ جاتی ہے تو انہیں بھی سیاست کرنے کا حق حاصل ہے

0
80
pakalerts.pk
pakalerts.pk

جن لوگوں پر مقدمات درج ہیں وہ عدالت میں سامنا کریں، اگربے گناہ ہوئے تو بری ہوجائیں گے اور جرم ہوا تو سزا ہوجائے گی ۔ وفاقی مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ

 وفاقی مشیرسیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی اگر پرتشدد کاروائیوں سے پیچھے ہٹ جاتی ہے توانہیں بھی سیاست کرنے کا حق حاصل ہے،جن لوگوں پر مقدمات درج ہیں وہ عدالت میں سامنا کریں۔ انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی جماعت کو ختم کرنا کسی پابندی کا مقصد نہیں ہوتا، بلکہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس جماعت میں دہشتگردی اور ریاست مخالف سرگرمیوں، جو کہ ملک کے وجود ، لوگوں کی جان ومال کے خلاف ہوں، ان سرگرمیوں کو ختم کرنا مقصد ہوتا ہے۔

ٹی ایل پی کے مذہبی نظریات سے کوئی تنازع نہیں ہے، لیکن جب بھی ٹی ایل پی نے احتجاج کو شروع کیا، وہ سب کے سامنے ہے کہ کس قسم کے واقعات ہوئے، 2017 کے پرتشدد احتجاج کے واقعات بھی سب کے سامنے ہیں، کتنی جانوں کا نقصان ہوا۔

اس کے نتیجے میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک فیصلہ کیا۔ پھر سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا، پھر 2021 میں انسداد دہشتگرد ایکٹ کے تحت اس جماعت پر پابندی لگائی گئی۔

اس پابندی کو ایک حلفیہ معاہدے کے تحت واپس لیا گیا۔ بیان حلفی میں یہ بات درج تھی کہ وہ دوبارہ پرتشدد سرگرمی نہیں کریں گے، اس کے بعد اب پھر پرتشدد احتجاج ہوا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لوگ شہید ہوئے، جان ومال کا نقصان ہوا۔ ٹی ایل پی 2021کے بیان حلفی کی خلاف ورزی کی۔ اس لئے پابندی لگائی گئی۔ لیکن اگر کسی جماعت پر سیاسی بنیاد پر پابندی لگائی جائے تو قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ اے این پی پر پابندی لگی تھی لیکن انہوں نے اپنے عمل اور سیاست سے ثابت کیا کہ ان کا دہشتگردی واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا، اے این پی مئوقف بھی یہی تھا کہ ان کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں۔ ٹی ایل پی اگر پرتشدد کاروائیوں سے پیچھے ہٹ جاتی ہے اور پھر عمل سے بھی ثابت کرتی ہے تو ان کے پاس بھی سیاست کرنے کے مواقع ہیں۔ جن لوگوں پر مقدمات ہیں وہ شواہد کی بنیاد پر عدالت میں سامنا کریں، اگربے گناہ ہوئے تو بری ہوجائیں گے اور اگر جرم کیا ہے تو سزا ہوجائے گی۔