کسی بھی جماعت پر پابندی سے نتائج حاصل نہیں ہوئے، یہ جن کو ملزم بناکر کٹہرے میں کھڑا کررہے ہیں خود بھی اسی کٹہرے میں کھڑے ہیں، رہنماء پی ٹی آئی بیرسٹر عمیر خان نیازی
پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی بیرسٹر عمیر خان نیازی نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی کو اگر قومی دھارے سے نکال دیں گے تو کیا وہ ختم ہوجائے گی؟ کسی بھی جماعت پر پابندی سے نتائج حاصل نہیں ہوئے، یہ جن کو ملزم کے کٹہرے میں کھڑا کررہے خود بھی اسی کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ایل پی سے متعلق عوام میں ایک تاثر اور بیانیہ بن رہا تھا کہ وہ کیوں نکلے؟ جب فلسطین کا مسئلہ حل ہوگیا ہے تو پھر کیوں نکلے؟ اگر سیاسی معاملے کو سیاسی انداز میں حل کرتے تو 10دن بیٹھے رہتے تو عوام کی رائے بالکل تبدیل ہوتی اور صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔
دوسری جانب وفاقی مشیرسیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ خان نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی جماعت کو ختم کرنا کسی پابندی کا مقصد نہیں ہوتا، بلکہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس جماعت میں دہشتگردی اور ریاست مخالف سرگرمیوں، جو کہ ملک کے وجود ، لوگوں کی جان ومال کے خلاف ہوں، ان سرگرمیوں کو ختم کرنا مقصد ہوتا ہے۔
ٹی ایل پی کے مذہبی نظریات سے کوئی تنازع نہیں ہے، لیکن جب بھی ٹی ایل پی نے احتجاج کو شروع کیا، وہ سب کے سامنے ہے کہ کس قسم کے واقعات ہوئے، 2017کے پرتشدد احتجاج کے واقعات بھی سب کے سامنے ہیں، کتنی جانوں کا نقصان ہوا۔
اس کے نتیجے میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک فیصلہ کیا۔ پھر سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا، پھر 2021میں انسداد دہشتگرد ایکٹ کے تحت اس جماعت پر پابندی لگائی گئی۔ اس پابندی کو ایک حلفیہ معاہدے کے تحت واپس لیا گیا۔ بیان حلفی میں یہ بات درج تھی کہ وہ دوبارہ پرتشدد سرگرمی نہیں کریں گے، اس کے بعد اب پھر پرتشدد احتجاج ہوا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لوگ شہید ہوئے، جان ومال کا نقصان ہوا۔
ٹی ایل پی 2021کے بیان حلفی کی خلاف ورزی کی۔ اس لئے پابندی لگائی گئی۔ لیکن اگر کسی جماعت پر سیاسی بنیاد پر پابندی لگائی جائے تو قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی پر پابندی لگی تھی لیکن انہوں نے اپنے عمل اور سیاست سے ثابت کیا کہ ان کا دہشتگردی واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا، اے این پی مئوقف بھی یہی تھا کہ ان کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں۔ ٹی ایل پی اگر پرتشدد کاروائیوں سے پیچھے ہٹ جاتی ہے اور پھر عمل سے بھی ثابت کرتی ہے تو ان کے پاس بھی سیاست کرنے کے مواقع ہیں۔ جن لوگوں پر مقدمات ہیں وہ شواہد کی بنیاد پر عدالت میں سامنا کریں، اگربے گناہ ہوئے تو بری ہوجائیں گے اور اگر جرم کیا ہے تو سزا ہوجائے گی۔




























