اسلام آباد: حکومت کے معاشی بہتری کے دعوؤں کے برعکس نئے مالی سال 2025-26 کے پہلے مہینے میں تجارتی خسارے میں 44 فیصد تک کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 میں تجارتی خسارہ 2 ارب 75 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز رہا، جو سالانہ بنیادوں پر 44.16 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 16.02 فیصد زیادہ ہے۔
📈 برآمدات اور درآمدات کا جائزہ:
- جولائی 2025 میں برآمدات 16.91 فیصد سالانہ اور 8.88 فیصد ماہانہ اضافے سے 2 ارب 69 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز رہیں۔
- جبکہ درآمدات 29.25 فیصد سالانہ اور 12.37 فیصد ماہانہ اضافے سے 5 ارب 44 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز تک پہنچ گئیں۔
تجارتی خسارے میں اس نمایاں اضافے نے معاشی پالیسیوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جو معیشت کو درست سمت میں لے جانے کے حکومتی دعووں سے متصادم نظر آتے ہیں۔
گزشتہ مالی سال کا مالی خسارہ بھی 7 ہزار ارب سے تجاوز کر گیا
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران:
- آمدن: 9,946 ارب روپے
- اخراجات: 17,036 ارب روپے
- مالیاتی خسارہ: 7,090 ارب روپے (جی ڈی پی کا 5.4 فیصد)
💸 اہم نکات:
- صوبوں کو 6,854 ارب روپے منتقل کیے گئے۔
- صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی میں 8,847 ارب روپے خرچ ہوئے۔
- ایف بی آر ہدف 12,970 ارب روپے کے مقابلے میں 11,744 ارب روپے ٹیکس ہی جمع کر سکا، جو 1,226 ارب روپے کم ہے۔




























