واشنگٹن (اُردو پوائنٹ نیوز۔ 27 ستمبر 2025) امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ پاک بھارت تنازع حل کرانے میں امریکا نے اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ بھارت کے حالیہ بیانات ان کی اندرونی سیاست کا نتیجہ ہیں۔
جنوبی ایشیا کے لیے امریکی محکمہ خارجہ کی سینئر اہلکار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پاک بھارت سیزفائر میں امریکا نے کلیدی کردار ادا کیا، اور یہ حقیقت ہے کہ جنگ بندی میں امریکی تعاون شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سیزفائر پر مختلف بیانات دراصل ان کی داخلی سیاست سے جڑے ہیں۔
اہلکار نے مزید کہا کہ کشمیر ایک دیرینہ مسئلہ ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود ہے۔ اگر دونوں ممالک چاہیں تو امریکا ثالثی کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا معاملہ براہِ راست اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان حل ہونا چاہیے۔
انہوں نے بگرام ایئربیس سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا بھی حوالہ دیا۔ اس موقع پر امریکی محکمہ خارجہ نے 13 امریکی فوجیوں کے قاتل دہشتگرد کی حوالگی پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے تعلقات میں مثبت پیش رفت ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات آگے بڑھانے پر کام کر رہا ہے، تاہم دونوں ملکوں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت مختلف ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امریکا ریکوڈک منصوبے سمیت پاکستان میں سرمایہ کاری کے بڑے مواقع دیکھ رہا ہے اور جلد ہی کروڑوں ڈالرز کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔




























