مزمل اسلم کو مشیر خزانہ، مینا خان آفریدی وزیر بلدیات، ارشد ایوب خان وزیر تعلیم اور خلیق الرحمان کو وزیر صحت کی وزارت سونپ دی گئی
وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی ہدایت پر ایڈمنستریشن ڈیپارٹمنٹ نے صوبائی کابینہ ممبران کے محکموں کا باضابطہ اعلامیہ جاری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق اعلامیہ میں کہا گیا کہ ایم پی اے مینا خان آفریدی کو صوبائی وزیر بلدیات، الیکشن و دیہی ترقی کی وزارت سونپی گئی ہے۔ارشد ایوب خان کو وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم، فضل شکور خان کو ویزر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ڈاکٹر امجد علی کو وزیر ہاؤسنگ کا قلمدان سونپ دیا گیا ہے۔ اسی طرح آفتاب عالم کو وزیر قانون، پارلیمانی امور اور انسانی حقوق، سید فخر جہان کو وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول، ریاض خان کو وزیر آبپاشی کی وزارت سونپ دی گئی ہے۔
خلیق الرحمان کو وزیر صحت، عاقب اللہ خان کو وزیر ریلیف، بحالی اور آبادکاری، فیصل خان ترکئی کو وزیر محنت (لیبر)، مزمل اسلم کو مشیر خزانہ، تاج محمد ترند کو مشیر کھیل و امورِ نوجوانان، شفیع اللہ جان کو معاون خصوصی برائے اطلاعات تعینات کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی سے میجر طاہر صادق اور ایمان طاہر کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف اٹک کے وفد نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ وفد میں 500 سے زائد کارکنان شامل تھے، جن میں 60 سے زیادہ چیئرمین بھی شریک ہوئے۔ پارٹی کارکنان نے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ نے تمام شرکاء کا پرتپاک استقبال کیا اور نہایت خلوص و گرمجوشی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق خیبر پختونخوا کو ایک مثالی، شفاف، پرامن اور عوام دوست صوبہ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی سیاست کا محور اقتدار نہیں بلکہ عوامی خدمت، قانون کی حکمرانی، انصاف کی فراہمی اور ایک خوددار و خوشحال پاکستان کا قیام ہے۔یہ صرف ایک حکومت نہیں بلکہ ایک مشن ہے عمران خان کے اس خواب کی تعبیر کہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں آزاد، خودمختار اور انصاف پر مبنی ریاست بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ایک نوجوان قبائلی رہنما کی تقرری نے نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے ملک میں تحریک انصاف کے کارکنان کے اندر نئی توانائی اور جوش پیدا کیا ہے۔ یہ تقرری پارٹی کے اس نئے مرحلے کی علامت ہے، جہاں جدوجہد کا محور عوامی طاقت، اصولی سیاست اور آئینی آزادی ہے۔تحریک انصاف ایک نئے جذبے، اتحاد اور یقین کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ کارکنان عمران خان کے وژن حقیقی آزادی، انصاف، میرٹ اور خود انحصاری کے اصولوں پر عمل پیرا ہوکر میدانِ عمل میں اتر چکے ہیں۔ یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے، جدوجہد کے اس مرحلے میں تحریک انصاف ایک بار پھر عوامی امیدوں، قومی وقار اور انصاف کی علمبردار جماعت کے طور پر ابھر رہی ہے۔




























