میرے دورہ کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی، دورے کو اسمگلنگ اور منشیات سے جوڑا گیا، یہ سب پنجاب حکومت کی زیر نگرانی ہوا، انتظامی حربے استعمال کرنے کا مقصد تضحیک کرنا تھا۔ احتجاجی مراسلہ
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لاہور میں نامناسب رویہ پروزیراعلیٰ مریم نواز کو احتجاجی مراسلہ ارسال کردیا۔ جس میں کہا گیا کہ میرے دورہ کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی، میرے دورہ کیخلاف انتظامی حربے استعمال کرنے کا مقصد تضحیک کرنا تھا۔ خیبرپختونخواہ حکومت ایکس کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے اپنے دورہ لاہور کے دوران نامناسب رویہ پر احتجاجی مراسلہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ارسال کردیا۔
جس انداز میں میرے دورہ کے دوران معاملات کو ڈیل کیا گیا وہ کوتاہی نہیں بلکہ جان بوجھ کر سب کیا گیا، جو ہوا وہ انتظامی خامی تھی نہ ہی حادثاتی بلکہ آئینی عہدہ اور بین الصوبائی عزت کو خراب کیا گیا۔
میں نے 40 ملین لوگوں کے نمائندہ کی حیثیت سے لاہور کا دورہ کیا لیکن جو کچھ میرے ساتھ ہوا وہ کسی بھی طور ایک عوامی نمائندہ کے شایان شان نہ تھا، مارکیٹیں اور عوامی مقامات کی بندش کرتے ہوئے لاہور کے باسیوں کو تکلیف دی گئی ، موٹروے ریسٹ ایریا تک بند رکھا گیا۔
میرے دورہ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی اور اسے منشیات سمگلنگ تک سے جوڑا گیا اوریہ سب پنجاب حکومت کی زیر نگرانی ہوا، ایسے رویئے اور انداز سے میری شخصیت کوتباہ کرنے کی کوشش کی گئی جسے کسی بھی طور نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ مراسلے میں کہا گیا کہ انتظامی طور پر ایسے حربے استعمال کیے گئے جن کا مقصد تضحیک کرنا تھا، ایسے طورطریقوں کے ذریعے ریاست کے یونٹس کے درمیان ہم آہنگی کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔
میں اس مراسلے کے ذریعے اس انداز اور طور طریقوں پر بھرپوراحتجاج کرتے ہوئے توقع رکھتا ہوں کہ ان کا ازالہ کرتے ہوئے مستقبل میں ان سے اجتناب برتا جائے گا۔ اس خط کو باقاعدہ طور پر احتجاجی مراسلہ تصور کرتے ہوئے مستقبل میں کسی بھی قسم کی آئینی ، قانونی اور بین الصوبائی کاروائی کے لیے ریکارڈ پر رکھا جائے۔




























