پاکستان اور کرغزستان کے درمیان خوشگوار اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں، ان تعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں، دوطرفہ تعاون مزید مستحکم کرنے کیلئے کرغزستان کے صدر کے مشکور ہیں؛ شہبازشریف کا تقریب سے خطاب
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تجارتی حجم 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پاکستان اور کرغزستان کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشت کے تبادلے کی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور کرغستان کے صدر صادر ژپاروف شریک ہوئے، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان خوشگوار اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور پاکستان کرغزستان کے ساتھ تعلقات کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے، دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے وہ کرغزستان کے صدر کے مشکور ہیں، اگلے دو سال میں تجارتی حجم 200 ملین ڈالر تک بڑھایا جائے گا۔
تقریب میں صادر ژپاروف نے اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دینے پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا، وہ شاندار مہمان نوازی اور پرجوش استقبال پر حکومت اور عوام کے بھی معترف ہوئے، صدر ژاپاروف نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں کرغزستان کا اہم شراکت دار ہے اور دونوں ممالک نے مستقبل کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا، اس وقت تقریباً 12 ہزار پاکستانی کرغزستان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے تعلیمی اور ثقافتی روابط مضبوط ہو رہے ہیں، تجارتی روابط میں اضافہ کرنے کے لیے بزنس فورم کا انعقاد اہم ہے، توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کاسا 1000 منصوبہ اہم کردار ادا کرے گا۔
قبل ازیں تقریب کے دوران پاکستان اور کرغزستان کے درمیان متعدد شعبوں میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ ہوا، تقریب میں شریک نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور کرغزستان کے وزیر خارجہ نے دستاویزات کا تبادلہ کیا، دونوں ممالک نے سیاحت، توانائی، زراعت اور کان کنی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے، اس کے علاوہ پاکستانی بندرگاہوں کے استعمال میں تعاون، سزا یافتہ قیدیوں کے تبادلے، بشکیک اور اسلام آباد کو جڑواں شہر قرار دینے کے معاہدے پر بھی دستخط ہوئے، تقریب کے اختتام پر دونوں ممالک کے سربراہان نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے جس میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔




























