ارشد شریف کے قتل کے بعد مراد سعید ان ہی کے گھر میں چھپے تھے،فیصل واوڈا کاانکشاف

0
93
pakalerts.com

سینیٹر فیصل واوڈا نے فیض حمید کی گرفتاری کے بعد ملک میں پیدا ہونے والی تازہ ہوا کی جھلک کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بہت دیر سے اٹھایا گیا۔ ان کے مطابق، وہ شخص جو دوسروں کی جگہیں لینے میں مہارت رکھتا تھا، اب خود جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے۔ انہوں نے مرحوم سینئر صحافی ارشد شریف کے کینیا میں قتل کے بعد مراد سعید کی چھپائی کی بات کرتے ہوئے پورے پاکستان کو چیلنج کیا کہ وہ میری بات غلط ثابت کریں۔ اے آر وائی نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر واوڈا نے بتایا کہ ارشد شریف پر دبئی سے جانے کے لیے ارسلان ستی نے دباﺅ ڈالا، جسے فیض حمید نے مقرر کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فیض حمید کے جھگڑالو کردار میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان بھی شامل ہیں۔ ٹاپ سٹی انکوائری میں بہت سے لوگوں کے کیریئر تباہ ہو گئے ہیں، لیکن اس پوری صورتحال کا کریڈٹ چوہدری نثار کو جاتا ہے جنہوں نے انکوائری کرائی اور ثابت قدمی دکھائی۔ سینیٹر واوڈا نے قانون سازی کے بارے میں کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو قانون میں تبدیلی کرنی پڑے گی، اور اس کے لیے پارلیمان کے نمبر پورے ہو جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسمبلی جو بھی فیصلہ کرے گی، قانون سازی اسی کے مطابق ہوگی، اور یہ سب ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں ہوگا۔

فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا دو سے تین دن میں کوئی قانون سازی متوقع ہے، تو انہوں نے مذاق کیا کہ کیا وہ اسلام آباد میں کافی پینے آئے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ "مولانا آ رہے ہیں” نامی گانا یاد رکھیں اور گاڑی میں بجانا شروع کر دیں، کیونکہ پاکستان کے وسیع تر مفاد اور جمہوریت کے لیے مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دینا ضروری ہے۔ آئینی عہدہ بھی خالی ہو سکتا ہے، اور مخصوص نشستوں کے معاملے پر پی ٹی آئی کو مایوسی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے عمران خان کو بتایا تھا کہ ان پر حملہ ہونے والا ہے، اور یہ حملہ ان کی جان لینے کے لیے کیا گیا تھا، جبکہ پارٹی کی سینئر قیادت موجود نہیں تھی۔