چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ہر جج کا کوئی نہ کوئی رجحان ہوتا ہے اور اس کا تعین ہونا مشکل نہیں کہ کسی جج کے پاس کیس آیا تو پراسیکیوشن کی پوزیشن کیا ہوگی۔ یہ سب کچھ عالمی سطح پر ہوتا ہے اور لوگوں نے 30، 40 سال میں اتنے تجربات سیکھ لیے ہوتے ہیں کہ کسی نہ کسی جانب رجحان بن جاتا ہے، اور پھر یہ کسی کی قسمت ہوتی ہے کہ کیس کہاں لگ جائے۔
نئے عدالتی سال کی شروعات پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے عدالتی سال کے آغاز پر ادارے کی کارروائی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 9 دن بعد انہیں بطور چیف جسٹس ایک سال مکمل ہو جائے گا، اور ان کا سب سے پہلا کام فل کورٹ اجلاس بلانا تھا جو 4 سال سے نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے عوامی اہمیت کے مقدمات کو براہ راست نشر کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ عوام کو عدالت کی کارکردگی براہ راست دیکھنے کا موقع ملے، کیونکہ پہلے عوام کو وہی معلومات ملتی تھیں جو ٹی وی چینلز یا یوٹیوبرز فراہم کرتے تھے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہر ادارے میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے، اور یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا پہلے سے بہتری اور شفافیت آئی ہے یا نہیں۔ پہلے چیف جسٹس جمعرات کو کاز لسٹ کی منظوری دیتے تھے، اور کاز لسٹ میں تبدیلی کا اختیار صرف چیف جسٹس کے پاس تھا۔ اب یہ اختیار ختم کر دیا گیا ہے، اور کاز لسٹ چیف جسٹس کے پاس نہیں آتی، بلکہ مقدمات کی سماعت مقرر کرنے کا اختیار رجسٹرار کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے تو بینچ بنتے ہی اندازہ ہو جاتا تھا کہ فیصلہ کیا ہوگا، لیکن اب خود انہیں بھی نہیں پتا کہ دائیں یا بائیں بیٹھے ججز کیا فیصلہ کریں گے۔ اگر فیصلہ کیس لگنے سے پہلے معلوم نہیں ہوتا، تو اس کا مطلب ہے کہ شفافیت آئی ہے۔




























