بے نامی آئی پیز‘معاہدوں میں تضادات ‘ تحقیقات کا پہلا مرحلہ مکمل

0
112

آئی پی پیز (انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات کے پہلے مرحلے میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئی پی پیز کے معاہدوں میں تضادات پائے گئے ہیں، جن میں متعدد آئی پی پیز بے نامی نکلیں اور ان کی مشنری اور دیگر آلات معاہدوں کے مطابق نہیں تھے۔ کئی آئی پی پیز نے معاہدے کی شرائط سے ہٹ کر فوائد حاصل کیے اور قانونی طور پر ملنے والی مراعات کا غلط استعمال کیا۔ اس کے علاوہ، ان کمپنیوں نے اوور انوائسنگ (حد سے زیادہ بلنگ) کے ذریعے اضافی منافع حاصل کیا۔

رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ آئی پی پیز نے ٹیکس چوری اور ٹیکس چھوٹ کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے تقریباً 1200 ارب روپے کا غیر قانونی فائدہ حاصل کیا۔ 1994 کے آئی پی پیز معاہدوں میں ٹیرف کی حد 5 روپے 91 پیسے مقرر کی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود آئی پی پیز نے منافع اور بجلی فروخت کی رسیدوں میں دھاندلی کی۔

تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ کچھ آئی پی پیز نے حکومت کو تعاون فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر ان پر دباؤ ڈالا گیا تو وہ بین الاقوامی ثالثی عدالتوں میں کیس لے جائیں گے۔ تاہم، پانچ آئی پی پیز نے رضا کارانہ طور پر نرخ اور منافع کی شرح میں کمی کرنے کی پیشکش کی۔ اس کے علاوہ، ایک دوست ملک کی پاور کمپنیوں نے بھی تحقیقات میں تعاون سے انکار کیا اور اپنی حکومت کے ذریعے تحقیقات کو روکنے کے لیے دباؤ ڈلوایا۔

یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آئی پی پیز کے معاہدوں اور ان کی کارکردگی پر نظرثانی ضروری ہے، تاکہ ملک کی توانائی کے شعبے میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔