وادی تیراہ میں امن مارچ پر فائرنگ، بچوں سمیت 7 افراد شہید، جنید اکبر کا شدید ردعمل

0
183
pakalerts.pk
pakalerts.pk

سوچیے کہ ریاست کے ایسے اقدامات سے دہشتگردی میں کمی آئے گی یا اضافہ؟ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی

اسلام آباد چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جنید اکبر نے وادی تیراہ میں امن مارچ پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس افسوسناک واقعے میں بچوں سمیت 7 بے گناہ افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ نہتے قبائلی مشران، نوجوانوں اور معصوم بچوں پر فائرنگ ناقابل برداشت ہے۔ دوران جنگ بھی بچوں کا قتل نہ کسی مذہب میں جائز ہے، نہ ریاستی اصولوں میں اور نہ کسی قانون میں۔ جنید اکبر نے سوال اٹھایا کہ کیا ریاست کے اس اقدام سے دہشتگردی کم ہو گی یا مزید بڑھے گی؟ کیا حکمرانوں کو پشتون بیلٹ اور ریاست کے درمیان بڑھتی خلیج کا احساس ہے؟

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز وادی تیراہ کے باغ بازار میں مارٹر شیلنگ سے ایک معصوم بچی شہید ہوئی، جس کے بعد آج مقامی شہری احتجاج کرنے سکیورٹی فورسز کے ہیڈکوارٹر کے سامنے جمع ہوئے۔ تاہم احتجاج کے دوران ان پر براہ راست فائرنگ کی گئی، جس میں متعدد شہری شہید و زخمی ہوئے۔ وادی تیراہ میں اس پرامن احتجاج پر ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں شہید افراد کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی تیراہ کے باغ میدان میں خوارج نے ایک بزدلانہ حملہ کیا۔ جب شہری اپنے قانونی مطالبات کے حق میں بریگیڈ ہیڈکوارٹرز کے سامنے پرامن احتجاج کر رہے تھے، تو خوارج نے پہاڑوں میں چھپ کر احتجاجی عوام پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس حملے کے نتیجے میں 3 افراد شہید اور 9 شدید زخمی ہوئے۔ سکیورٹی حکام کے مطابق یہ حملہ ایک بڑی سازش کا حصہ تھا جس کا مقصد عوام اور سکیورٹی فورسز کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچانا، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا اور علاقے کے امن کو سبوتاژ کرنا ہے۔

سورس اردو پوائنٹ