پشاور پولیس لائنزمیں خودکش دھماکے کے مرکزی سہولت کارکانسٹیبل محمدولی کو گرفتار کرلیا گیا،آئی جی خیبرپختونخواہ

0
58
Pakalerts.pk

آئی جی خیبرپختونخواہ اختر حیات خان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پشاور پولیس لائنز خودکش حملے کے مرکزی سہولت کار کانسٹیبل محمد ولی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ محمد ولی 2019 میں پولیس فورس میں بھرتی ہوا تھا، مگر بعد میں دہشت گرد تنظیم سے جڑ گیا۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ اس کا تعلق فتنہ الخوارج کی ایک ذیلی تنظیم سے تھا، اور اس نے خودکش جیکٹس، ہتھیار، اور دیگر دھماکہ خیز مواد فراہم کیا۔

پولیس کے مطابق، 2021 میں محمد ولی نے جنید نامی شخص سے فیس بک پر رابطہ کیا، جو افغانستان میں دہشت گرد تنظیم کا ریکروٹمنٹ ایجنٹ تھا۔ جنید نے اسے افغانستان آنے کا کہا، جس کے بعد ولی چمن بارڈر کے ذریعے افغانستان گیا اور وہاں دہشت گرد تنظیم کے کمانڈر صلاح الدین سے ملاقات کی۔ اس نے پولیس لائنز حملے میں سہولت کار کا کردار ادا کیا اور دہشت گرد کو پولیس لائنز پہنچایا۔ اس سہولت کاری کے بدلے اسے 2 لاکھ روپے ملے، جو اس نے حوالہ ہنڈی کے ذریعے وصول کیے۔

پریس کانفرنس میں آئی جی نے مزید بتایا کہ ولی نے دسمبر 2023 میں پشاور کی گیلانی مارکیٹ میں دستی بم سے حملہ کیا اور اپنے ساتھیوں کو ٹارگٹ کلنگ کے لیے ہتھیار بھی فراہم کیے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پولیس فورس میں موجود چند عناصر دہشت گرد نیٹ ورک سے جڑ کر ملک کے امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ آئی جی نے کہا کہ محمد ولی کی گرفتاری سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کی کمر توڑنے میں مدد ملے گی اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔