پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اسرائیلی اخبار میں شائع ہونے والے آرٹیکل پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بارے میں پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے حامی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل میں ان کی مغربی ممالک اور مسلم امہ میں کریڈیبلٹی کی بات کی گئی تھی، اور ان کا اسرائیل کے حوالے سے مؤقف ہمیشہ سے واضح ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی بند کرے، سیز فائر ہو، اور دو ریاستی حل کی طرف پیش رفت کی جائے، تبھی بات چیت ممکن ہو سکتی ہے۔
عمران خان نے راولپنڈی میں اگلے ہفتے جلسہ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اس کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے موجودہ حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ عدلیہ کو کمزور کر کے غیر اعلانیہ مارشل لاء نافذ کرنا چاہتی ہے اور آئینی ترامیم لا رہی ہے جو کسی آمریت سے بھی زیادہ سنگین ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک انصاف نہیں ہوگا، ملک میں امن قائم نہیں ہو سکتا، اور PTI ان ترامیم کے خلاف سٹریٹ موومنٹ شروع کرے گی۔
لاہور کے جلسے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جلسے سے ایک دن قبل اجازت دی گئی تھی اور راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، لیکن اس کے باوجود ان کے کارکنوں نے پیدل چل کر جلسہ میں شرکت کی۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کو داد دیتے ہوئے کہا کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود جلسہ کامیاب رہا۔




























