پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سویلینز کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں پر بنائے گئے تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر ہیں، جن کی مذمت کرتے ہیں۔
عمر ایوب نے کہا کہ پاکستان میں پی ٹی آئی حکومت ختم ہونے کے بعد سے معیشت مسلسل زوال کا شکار ہے اور موجودہ حکومت حالات سنبھالنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مقدمات میں ان پر 14 فارن ایکٹ بھی عائد کیا گیا ہے، جو کہ حیرت انگیز ہے کیونکہ وہ قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرز پر دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، جبکہ وہ جوڈیشل کمیشن کے بھی ممبر ہیں جس کی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان کر رہے ہیں، جو ایک بڑا تضاد ہے۔
واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے عمر ایوب کو ایک ماہ کی حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے کسی بھی درج مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا تھا کہ عمر ایوب کے خلاف مختلف مقامات پر 21 مقدمات درج ہیں، اور تمام مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد نے مقدمات کی تفصیلات کیلئے متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کا حکم دیا اور اس دوران ایک مہینے کی حفاظتی ضمانت دی۔




























