پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز نے راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جو حالات اس وقت ہیں، وہ مارشل لاء کے دور میں بھی نہیں دیکھے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو دبانے کے لیے حکومت قوانین کا غلط استعمال کر رہی ہے، مگر وہ اقتدار میں آ کر ایسے اقدامات نہیں کریں گے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو نمائشی ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت آئین کا مذاق بنا کر اپنی مرضی کے قوانین منظور کروا رہی ہے، لیکن پی ٹی آئی ان ہتھکنڈوں سے گھبرانے والی نہیں۔
شبلی فراز نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نااہل اور خودساختہ ہے اور اس سے 390 ارب روپے کا خسارہ بھی پورا نہیں ہو رہا۔ ملک میں کاروبار رک چکا ہے، لوگ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، اور غیرملکی کمپنیاں بھی پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کی خوشحالی اور ترقی کے لیے پی ٹی آئی کی جدوجہد جاری رہے گی اور حکومت کی طرف سے امپورٹ ڈیوٹی میں اضافے اور منی بجٹ کی تیاریوں پر تنقید کی۔
اسد قیصر نے بھی اسی موضوع پر صوابی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو باعزت رہا کیا جانا چاہیے اور ملک کے معاملات میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی سے پی ٹی آئی کو کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ پی ٹی آئی اپنے ملک کے معاملات میں خودمختاری اور قانون کی حکمرانی چاہتی ہے۔




























