انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس نے 26ویں آئینی ترمیم عدلیہ کی آزادی پر کاری ضرب قرار دیدی

0
84

انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس (ICJ) نے 26ویں آئینی ترمیم کو پاکستان میں عدلیہ کی آزادی کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ ICJ کے سیکرٹری جنرل سینٹیاگو کینٹن نے کہا ہے کہ یہ ترمیم عدلیہ کی خودمختاری کو محدود کرتی ہے اور سیاسی اثر و رسوخ کو بڑھاتی ہے، جس سے عدلیہ کا آزادانہ کردار متاثر ہوگا۔ ان کے مطابق، اس ترمیم کے ذریعے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی ساخت اور چیف جسٹس کی تقرری کے عمل میں ایگزیکٹو اور پارلیمنٹ کا کردار بڑھا دیا گیا ہے، جو عدلیہ کی آزادی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

کینٹن نے مزید کہا کہ یہ ترامیم عدلیہ کو سیاسی دباؤ میں لانے کی کوشش ہیں اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں سے انحراف کرتی ہیں۔ خاص طور پر، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی نئی ساخت، جس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان شامل کیے گئے ہیں، ججوں کی تقرریوں میں سیاسی اثر و رسوخ کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، چیف جسٹس کی تقرری کے نئے طریقہ کار میں پارلیمانی کمیٹی کو سپریم کورٹ کے سینئر ججز میں سے چیف جسٹس کو نامزد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، جو عدلیہ کی آزادی پر براہ راست حملہ ہے۔

ICJ نے اس ترمیم کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں، جیسے کہ آئی سی سی پی آر، کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جو آزادانہ اور منصفانہ عدالتی نظام کو یقینی بنانے کے لیے ریاستوں کو پابند کرتا ہے۔ ان ترامیم کی جلد بازی میں منظوری اور خفیہ طریقہ کار پر بھی کمیشن نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔