باپ فیض حمید کے اندر جانے کے بعد پی ٹی آئی والے لاوارث ہوگئے ہیں

0
92
Pakalerts.pk

سینئر سیاستدان سینیٹر فیصل واوڈا نے حال ہی میں ایک زبردست دعویٰ کیا ہے کہ باپ فیض حمید کے منظر سے ہٹنے کے بعد پی ٹی آئی بے یار و مددگار ہو گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے جمہوریت کی طرف آنے کے باعث پی ٹی آئی کا حال مزید بگاڑ چکا ہے، کیونکہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ جمہوریت، پاکستان، اور اقتدار سب ایک ہی لائن پر چلتے ہیں۔ فیصل واوڈا نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور کے حالیہ بیان کے بعد پی ٹی آئی کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا۔ 9 مئی کے واقعات کی ذمہ داری بھی انہی پر آتی ہے، اور یہی ان کا مائنڈ سیٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کو جیل سے نکالا جائے تو باقی مجرموں کو بھی رہا کر دینا چاہیے۔ اہم بات یہ ہے کہ آج کے دن کے بعد عمران خان کی زندگی کی تمام تر ذمہ داری علی امین گنڈاپور کے کندھوں پر ہے۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ شیطانی منصوبے بنائے جا رہے ہیں، اور گنڈاپور فیض حمید کے ساتھ رابطے میں پکڑا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے وزیراعلیٰ کے نمبر گنے جا چکے ہیں۔ گنڈاپور اور اس کے بھائی کی کرپشن سب کے سامنے ہے، اور الیکشن کے قریب گنڈاپور کے اثاثوں کی تفصیلات بھی سامنے آئیں گی۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے جمہوریت کی طرف آنے سے پی ٹی آئی مزید بے یار و مددگار ہو گئی ہے، کیونکہ مولانا جمہوریت، پاکستان، اور اقتدار کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب فیض حمید بغاوت، قتل و غارت، اور غداری کے الزامات میں پکڑا جائے گا، تو پی ٹی آئی اور عمران خان بھی اس کی حقیقت افشا کریں گے۔

فیصل واوڈا نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی کرسی بہت طاقتور ہوتی ہے، لیکن جنرل باجوہ نے فیض حمید کو ہٹا کر نیا ڈی جی آئی ایس آئی لگا دیا۔ انہوں نے کہا کہ فیض حمید کے ساتھ جڑے واقعات میں ارشد شریف کا قتل بھی شامل ہے، اور مراد سعید کا کردار بھی اہم ہے۔ فیصل واوڈا نے بتایا کہ عمران خان نے ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے آگاہ کیا تھا، اور اس قتل کے بعد مراد سعید کو لیڈر کے طور پر متعارف کرایا گیا۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ فیض حمید اور عمران خان کی گٹھ جوڑ نے پاکستان میں اہم تبدیلیاں لائیں، اور جنرل باجوہ کا کریڈٹ ہے کہ انہوں نے اس گٹھ جوڑ کو توڑا۔