حافظ نعیم الرحمان نے بجلی کے ونٹر پیکج، آئی پی پیز، اور مہنگائی پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کو ونٹر پیکج کے نام پر دھوکہ دے رہی ہے اور عوام پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پیکج کے مطابق صرف اضافی استعمال شدہ بجلی کے یونٹس پر رعایت دی جا رہی ہے، جبکہ پرانے یونٹس پر قیمتیں برقرار رہیں گی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے آئی پی پیز کے معاہدوں اور ان کو دیے جانے والے کیپیسٹی چارجز پر سوالات اٹھائے، اور مطالبہ کیا کہ حکومت ان معاہدوں کو ختم کرے۔
حافظ نعیم الرحمان نے موجودہ حکومت کو مکمل طور پر جھوٹ اور ناقص حکومتی پالیسیوں پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں عالمی سطح پر کمی کے باوجود، ملک میں اضافے نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر کمی کرے اور بجلی کے ٹیرف کو بھی کم کرے تاکہ معیشت بہتر ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں تعلیم کی صورتحال بھی نہایت افسوسناک ہے۔ 77 سال گزرنے کے باوجود کوالٹی ایجوکیشن میسر نہیں، اور پنجاب حکومت مزید سرکاری اسکولوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تعلیمی بجٹ کے باوجود ملک کے بچے سکولوں سے باہر ہیں اور نوجوانوں کی یونیورسٹیوں تک رسائی بہت محدود ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ ان کی جماعت ملک میں صاف اور شفاف حکومت کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہی ہے اور عوام سے اپیل کی کہ ان کی تحریک کا حصہ بنیں۔




























