190 ملین پاؤنڈز کیس میں نیب کا عمران خان کیلئے 79 سوالات پر مشتمل سوالنامہ سامنے آگیا

0
66

نیب کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کو 14 صفحات اور 79 سوالات پر مشتمل سوالنامہ پیش کیا گیا ہے، جس میں مختلف الزامات اور تفصیلات شامل ہیں جو 190 ملین پاؤنڈز کے کیس سے متعلق ہیں۔ سوالنامے میں متعدد اہم سوالات کیے گئے ہیں، جن میں برطانیہ سے موصول ہونے والے فنڈز کی منتقلی، القادر ٹرسٹ کے قیام، زمین کی خریداری اور عطیات سے متعلق معلومات شامل ہیں۔

نیب نے عمران خان سے پوچھا کہ آیا انہوں نے اپنے خلاف استغاثہ کے شواہد کو سمجھا ہے اور جو الزامات عائد کیے گئے ہیں، ان پر ان کا کیا مؤقف ہے؟ سوالنامے میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے بحریہ ٹاؤن اور دیگر شریک ملزمان کے ساتھ مل کر غیر قانونی مالی فوائد حاصل کیے اور اس کے بدلے میں ریاست پاکستان کو نقصان پہنچایا۔ القادر ٹرسٹ کے نام پر زمین کے انتقال، ٹرسٹ کے قیام، عطیات، کابینہ اجلاس میں خفیہ ایجنڈے کی منظوری، اور متعلقہ وزارتوں اور اداروں سے مشاورت نہ کرنے پر بھی سوالات کیے گئے ہیں۔

نیب نے عمران خان سے کہا کہ گواہوں کے بیانات کے مطابق، انہوں نے اور ان کے مشیر شہزاد اکبر نے کابینہ اجلاس میں خفیہ دستاویزات اور مالیاتی معاہدوں کو بغیر مکمل جائزہ کے منظور کرنے پر زور دیا، جس سے ریاستی خزانے کو نقصان پہنچا۔ سوالنامے میں القادر ٹرسٹ کے قیام اور عمران خان کی حیثیت سے چیئرمین کے کردار پر بھی سوالات ہیں۔

نیب نے عمران خان سے سوال کیا کہ آیا وہ اپنے دفاع میں کوئی شواہد پیش کرنا چاہتے ہیں اور کیا وہ عدالت میں حلفاً اپنے بیانات دینا چاہتے ہیں۔ یہ سوالنامہ ان سے تفصیلی جواب طلب کرتا ہے تاکہ نیب کے مطابق ان کے اور دیگر شریک ملزمان کے مابین ہونے والے مالیاتی معاملات کی چھان بین مکمل کی جا سکے۔