توشہ خانہ 2 کیس ،عمران خان،بشری بی بی کی بریت کی درخواستوں کا فیصلہ12نومبر کو سنایا جائیگا

0
66

توشہ خانہ 2 کیس ،عمران خان،بشری بی بی کی بریت کی درخواستوں کافیصلہ12نومبر کو سنایا جائیگا،عدالت نے بریت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا،توشہ خانہ 2کیس میں بانی پی ٹی آئی اوران کی اہلیہ کی بریت کی درخواستوں پر سپیشل پراسکیوٹر اور وکلاءصفائی نے دلائل مکمل کر لئے،عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس میں بھی فرد جرم عائد نہیں ہو سکی،راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت ہوئی سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے سماعت کی۔

بانی پی آٹی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیئے۔اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت کے دوران ملزمان کی درخواست بریت پر فریقین کے دلائل مکمل ہو گئے، بعد ازاں عدالت نے ملزمان کی درخواست بریت پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو منگل 12نومبر کو سنایا جائے گا۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت 12 نومبر کو سماعت کیلئے مقرر کی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب 12 نومبر کو عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت کریں گے۔ عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر رکھا تھا۔واضح رہے کہ لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف درج 9 مئی 2023 کے جلاو¿ گھیراو¿ سے متعلق 4 مقدمات میں ضمانت منظور کر لی تھی۔

عمران خان کی 9 مئی کے 4 مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوئی تھی۔ اے ٹی سی جج ارشد جاوید نے درخواستوں پر سماعت کی تھی۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی 4 مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں تھیں۔ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے فیصلہ سنایا۔ عدالت نے مزید دلائل دینے کیلئے وقت دینے کی درخواست خارج کردی گئی تھی۔

بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے مزید دلائل دینے کیلئے درخواست دائر کی تھی۔پراسیکیوشن کی جانب سے پراسیکیوٹرجنرل پنجاب نے دلائل دیئے تھے۔درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ پراسیکیوشن کے دلائل کے بعد نیا نکتہ سامنے آیا تھا۔ عدالت مزید دلائل کیلئے وقت دے۔عدالت نے بیرسٹر سلمان صفدر سے کہا تھاکہ آپ پہلے ہی اپنے دلائل دے چکے ہیں۔ آج پراسیکیوٹر جنرل فرہاد علی شاہ نے دلائل مکمل کئے ہیں۔ بار بار دلائل سے وقت ضائع ہو گا۔ اب ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ ہونا چاہیے ۔