شہباز حکومت ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام

0
107
Pakalerts.pk

پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹیکس شارٹ فال 1 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا

لاہور موجودہ حکومت کی معاشی پالیسی بری طرح ناکام، ملکی تاریخ کا بدترین ٹیکس خسارہ! پہلی مرتبہ پاکستان کے مالیاتی نظام میں ٹیکس شارٹ فال 1000 ارب روپے سے بھی بڑھ گیا، حالانکہ مالی سال کا ایک ماہ ابھی باقی ہے۔

ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے مالی سال 2024-25 کا اختتامی مہینہ سب سے کڑا امتحان بن چکا ہے، کیونکہ مئی 2025 میں محصولات کی وصولی شدید حد تک متاثر رہی، جس سے 206 ارب روپے کا بڑا شارٹ فال سامنے آیا۔ ایف بی آر کو مئی میں 1110 ارب روپے اکٹھے کرنے کا ہدف دیا گیا تھا، تاہم وہ بمشکل 904 ارب روپے جمع کر سکا۔

اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2024 سے مئی 2025 تک کے دوران ٹیکس وصولیوں میں مجموعی کمی 1,027 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔

اسی عرصے میں ایف بی آر کو 11,240 ارب روپے وصول کرنے تھے، مگر وہ صرف 10,213 ارب روپے حاصل کر سکا۔ ٹیکس شارٹ فال جو مارچ کے آخر تک 703 ارب روپے تھا، اب مئی کے اختتام تک 1,027 ارب روپے کی سطح پر جا پہنچا ہے۔ یہ صورتحال وزارت خزانہ اور ایف بی آر دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا چکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محصولات میں اس مستقل گراوٹ کے پیش نظر حکومت نے ایف بی آر کا سالانہ ہدف 12,913 ارب روپے سے گھٹا کر 12,334 ارب روپے کر دیا ہے، مگر جون 2025 کے لیے 2,121 ارب روپے کی وصولی اب بھی ایک کٹھن چیلنج ہے۔

ٹیکس حکام اس وقت شدید دباؤ میں ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ جون میں مقررہ ہدف حاصل کرنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ مالی سال مکمل ہونے تک غیر معمولی اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ کسی نہ کسی صورت ہدف کو قریب سے چھوا جا سکے۔


اگر آپ مزید معاشی، سیاسی یا سماجی خبروں کو اسی انداز میں اسپن کروانا چاہتے ہیں تو ضرور بتائیں۔