سیاسی جماعتیں خاندانی اجارہ داریاں ہیں، الیکشن میں جو کامیاب ہو اسی کی کامیابی کا نتیجہ جاری کیا جائے، فارم 47 کا چکر چلانے سے ملک کمزور ہوتا ہے۔ امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار سے خطاب
لاہور: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم اور خودمختار عدلیہ ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی بحالی کے بعد جس تبدیلی کی امید کی جا رہی تھی وہ پوری نہ ہو سکی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے، جو جماعت عوامی مینڈیٹ سے کامیاب ہو، اسی کو حکومت بنانے کا حق دیا جائے۔ فارم 47 کے ذریعے نتائج میں ہیرا پھیری ملک کو مزید کمزور کرتی ہے۔
راولپنڈی کی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل باڈی اجلاس سے خطاب میں حافظ نعیم نے کہا کہ جب اقتدار خطرے میں ہو تو سیاسی جماعتوں کو جمہوریت یاد آتی ہے، حالانکہ ان کے اندر خود آمریت کا راج ہے۔ چالیس سال سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہو رہے کیونکہ ان سے خاندانی سیاست کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کی وجہ بھی یہی ہے کہ کہیں نچلی سطح پر عوام کو طاقت نہ مل جائے۔ پنجاب میں 2015ء کے بعد کوئی بلدیاتی الیکشن نہیں ہوا۔ کراچی میں بار بار تحریکوں کے بعد بلدیاتی انتخابات تو ہوئے لیکن اکثریت حاصل کرنے کے باوجود جماعت اسلامی سے میئر کا حق چھین لیا گیا اور پیپلز پارٹی کو بٹھا دیا گیا۔ تقریب میں بار راولپنڈی کے صدر سردار منظر بشیر، ہائیکورٹ بار کے صدر احسن حمید اور دیگر وکلاء بھی شریک تھے۔ جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر طارق سلیم اور راولپنڈی کے امیر عارف شیرازی بھی موجود تھے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ فوجی آپریشن کا نتیجہ ہمیشہ عوامی نقصان اور اداروں کے درمیان خلیج کی صورت میں نکلتا ہے۔ بھارت کو منہ توڑ جواب دینے سے قوم متحد ہوئی لیکن اگر ہم صرف کرائے کے سپاہی بنیں گے تو اتحاد ٹوٹ جائے گا۔ ان کا مؤقف تھا کہ کشمیر صرف مذاکرات سے نہیں بلکہ جہاد سے آزاد ہو گا۔ بغیر کشمیر کے بھارت سے بات چیت ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ دشمن ملک نے پاکستان پر حملے کیے، سویلین اور مساجد کو نشانہ بنایا، اور پہلگام جیسے جھوٹے واقعات گھڑ کر جھوٹی کہانی سنائی۔ یہ بھارت کی جانب سے ایک فالس فلیگ آپریشن تھا۔ اس بار پاکستان نے عالمی سطح پر بہتر مؤقف اپنایا اور جماعت اسلامی نے حکومتی مؤقف کی حمایت کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے جنگی ماحول پیدا کرنے کی کوشش پر قوم میں اتحاد پیدا ہوا۔ گزشتہ 25 سالوں سے جو جنگ پاکستان لڑ رہا ہے، وہ درحقیقت اس کی اپنی جنگ نہیں۔ امریکہ کے کہنے پر ہم نے افغانستان میں قدم رکھا، جبکہ ہمیں اپنی خودمختاری کو مقدم رکھنا چاہیے۔ چین نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا اور ہم نے بھی اس دوستی کے لیے قربانیاں دیں۔
حافظ نعیم نے کہا کہ اب وقت ہے کہ حکومت فتح کا جشن ختم کر کے بلوچستان، لاپتہ افراد اور خیبر پختونخوا میں امن کے مسائل پر توجہ دے۔ فوج اور سویلین اداروں کے دائرہ کار کی وضاحت ضروری ہے۔ بلوچستان اور کے پی میں امن افغان حکومت کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ افغان شہریوں کی باعزت واپسی ہونی چاہیے اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو، اس کی ضمانت ہونی چاہیے۔
انہوں نے افغان سفیر کی تعیناتی کو مثبت قدم قرار دیا اور کہا کہ تنخواہ دار طبقہ 500 ارب روپے ٹیکس دیتا ہے جبکہ جاگیردار چند ارب بھی ادا نہیں کرتے۔ بجلی کی قیمتیں کم کی جائیں اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ ہلکا کیا جائے۔ بجلی کی فراہمی ضرورت سے زیادہ ہے، اضافی بجلی ڈیٹا سینٹرز کو دی جائے۔
سود کے خاتمے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ 11 فیصد شرح سود کو کم کرتے ہوئے 2027 تک مکمل خاتمہ کیا جائے۔ بجٹ میں ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے عوام کو حقیقی ریلیف ملے۔ انہوں نے مہنگائی کے خلاف عملی اقدام کی ضرورت پر زور دیا۔
آخر میں حافظ نعیم نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کے مسائل حل کیے جائیں اور نوجوان مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے سرگرم کردار ادا کریں۔ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور کشمیری پاکستانی ہیں۔ کشمیر پر کسی بیرونی ثالثی کو قبول نہیں کیا جائے گا، خاص طور پر امریکہ کی۔




























