صدر مملکت نے ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجرآرڈیننس پر دستخط کر دئیے

0
108
pakalerts.pk

صدر مملکت آصف علی زرداری نے ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 پر دستخط کر دیے، جس کے بعد اس آرڈیننس کو باضابطہ طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔ وزارت قانون نے اس آرڈیننس کو وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو بھجوایا تھا، اور کابینہ نے اس کی منظوری سرکولیشن سمری کے ذریعے دی۔

پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت، چیف جسٹس، سینئر ترین جج اور چیف جسٹس کے نامزد کردہ جج مقدمات کی سماعت کے لیے بینچز مقرر کریں گے۔ اس آرڈیننس کی بدولت چیف جسٹس کو سپریم کورٹ میں مقدمات مقرر کرنے میں مزید اختیار حاصل ہو جائے گا۔

ترمیمی آرڈیننس کے تحت، کیسز کی سماعت سے پہلے عوامی مفاد کی وجوہات فراہم کرنا لازم ہو گا۔ آرڈیننس کے مطابق، کمیٹی کے کسی رکن کی عدم دستیابی پر چیف جسٹس کسی دوسرے جج کو کمیٹی کا رکن مقرر کر سکیں گے۔ اس قانون کے تحت بننے والی تین رکنی کمیٹی عدالتی بنچز تشکیل دے گی۔

ترمیمی آرڈیننس 2024 کے نفاذ سے عدالتی کارروائیوں کی مکمل ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ تیار کی جائے گی، جو عوام کے لیے دستیاب ہوں گی۔ آئین کے آرٹیکل 184 کی شق 3 کے تحت جاری کیے گئے احکامات کے خلاف اپیل کا حق بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔

یہ آرڈیننس اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہر مقدمہ اپنے مقررہ وقت پر سنا جائے گا، بصورت دیگر وجہ بتائی جائے گی، اور تمام عدالتی ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹس عوام کے لیے کھلی ہوں گی تاکہ شفافیت برقرار رہے۔