وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آپ عدالتوں سے رجوع کریں اور احتجاج کریں، لیکن ریڈ لائن نہ عبور کریں، کیونکہ سیاسی اختلافات جمہوریت کی خوبصورتی ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں پیش آنے والے واقعے کی تائید نہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارلیمنٹ میں ریڈ لائن کراس ہوئی تو جلسوں میں کئی لائنیں پار کی گئی ہیں۔ عمران خان کے کیسز سے اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن جمہوریت پر حملہ نہ کریں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کی تقریر کے بعد یہ واقعہ پیش آیا۔ جب آپ ریاست کو چیلنج کرتے ہیں اور لشکر لے کر جاتے ہیں، تو یہ باتیں جمہوریت کی خودکشی کے مترادف ہیں۔ جلسے میں پندرہ دن میں عمران خان کو جیل سے چھڑانے کی بات کی گئی، جبکہ آپ کو عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر عمران خان گرفتار ہیں تو ہماری لیڈرشپ بھی گرفتار رہی ہے، کیونکہ سسٹم کو بچانے کے لئے نواز شریف بائیس یا چوبیس ماہ قید میں رہے، اور پیپلز پارٹی کی قیادت بھی جیلوں میں رہی۔ جب آپ اپنے لیڈر کی نظربندی کی بات کرتے ہیں تو نواز شریف اور آصف زرداری کی نظربندی کو بھی یاد کریں۔
خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں اکتوبر کے حوالے سے اپوزیشن کی امیدوں پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے 34 سال اس ایوان میں گزارے ہیں اور موجودہ تلخی تاریخ میں کہیں نہیں دیکھی۔ سپیکر صاحب، ہاؤس کو آپ کے سپرد کردیا جائے، کیونکہ جب ایوان ڈس رپٹ ہوتا ہے، تو مایوسی ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کی عمارت پر قبضہ ہوا اور ہم ایوان میں پچھلے دروازے سے آتے تھے، پیپلزپارٹی کے دوستوں نے 2006ء کے معاہدے کی روح کے تحت کام کیا۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف، آصف زرداری کی ہمشیرہ اور خود گرفتاریوں کے باوجود ہمارے پروڈکشن آرڈر کبھی جاری نہیں ہوئے، لیکن میں پی ٹی آئی کے رہنماوں کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔ بینظیر اور نواز شریف کے 2006ء کے معاہدے کو پہلی جمہوری پیشرفت قرار دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اب تک کوئی لمحہ ایسا نہیں آیا کہ ہم نے نوے کی دہائی کی چیزوں کو دہرایا ہو، اور 2014ء کے دھرنوں کے دوران تمام جماعتیں ایوان کی تقدیس کے لئے متحد رہی تھیں۔




























