نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمت میں ایک روپیہ 74 پیسے فی یونٹ کا مزید اضافہ کر دیا ہے اور اس اضافے کے اطلاق کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، نیپرا نے سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمت بڑھا دی ہے۔ کراچی سمیت پورے ملک میں بجلی اپریل سے جون 2024ء کی سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی کر دی گئی ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، اس اضافے کی وصولی ستمبر سے نومبر 2024ء کے تین ماہ کے دوران کی جائے گی، جس سے صارفین پر 43 ارب 23 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
دوسری طرف، اسلام آباد کے صارفین کے لیے بجلی کے بلوں پر ملنے والی سبسڈی واپس لے لی گئی ہے، جس سے وفاقی دارالحکومت کے بجلی صارفین 14 روپے فی یونٹ سبسڈی کے حق دار نہیں رہیں گے۔ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے نوٹیفکیشن کے مطابق، وفاقی علاقے کے صارفین کو ماہ ستمبر کے بجلی کے بل یکم جولائی کے نرخوں کے تحت ہی جاری کیے جائیں گے۔
یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے بجلی کے بلوں پر سبسڈی دینے سے اتفاق نہیں کیا ہے۔ آئی ایم ایف نے پنجاب کی جانب سے بجلی بلوں پر سبسڈی دینے پر بھی اعتراض اٹھایا ہے، اور ان کا موقف ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں بجلی کے بلوں پر سبسڈی دینے کی مجاز نہیں ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق، سبسڈی دینے سے قرض پروگرام کی منظوری خطرے میں پڑسکتی ہے، کیونکہ پاکستان کے ساتھ معاہدے کے تحت بجلی اور گیس کے بلوں پر سبسڈی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔




























