اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران ایک حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف کی بائیومیٹرک تصدیق عدالت کے تحریری حکم نامے کے بغیر کی گئی تھی۔ جسٹس ارباب محمد طاہر کی عدالت میں یہ انکشاف اس وقت ہوا جب ایک اشتہاری ملزم کی درخواست کی سماعت کے دوران ڈائری برانچ کے نمائندے نے بتایا کہ نواز شریف کا ایئرپورٹ پر ای بائیومیٹرک کیا گیا تھا۔
عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا نواز شریف کا ای بائیومیٹرک ہوا تو سب کا بائیومیٹرک شروع کر دیا؟ ڈائری برانچ کے نمائندے نے بتایا کہ اسسٹنٹ رجسٹرار نے زبانی طور پر یہ حکم دیا تھا، جس پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔
دوران سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ اشتہاری ملزم کی درخواست قابل سماعت قرار دینے پر ڈائری برانچ نے غیر مناسب عمل کیا ہے۔ انہوں نے برانچ کے نمائندے کو طلب کر کے سختی سے سرزنش کی اور سوال اٹھایا کہ اگر کوئی شخص لندن یا امریکا سے بائیومیٹرک کرائے گا تو کیا اس کی درخواست بھی منظور کی جائے گی؟
یہ بھی یاد رہے کہ میاں نواز شریف کی لندن سے پاکستان آمد پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے اہلکاروں نے ان کی بائیومیٹرک ایئرپورٹ پر کروائی تھی، جب کہ اس وقت وہ کئی مقدمات میں اشتہاری تھے۔ ان کی ضمانتیں بائیومیٹرک کے بعد منظور کی گئیں تھیں، جس پر آج عدالت میں یہ معاملہ زیر بحث آیا۔
عدالت نے اس پورے عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں اور اس حوالے سے مزید کارروائی کا عندیہ دیا ہے، جس سے ہائی کورٹ میں اس کیس کا رخ مزید دلچسپ ہو گیا ہے۔




























