18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے ساتھ کھیلنے والے آگ سے کھیل رہے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

0
59
pakalerts.pk
pakalerts.pk

پیپلزپارٹی ایسے کسی فیصلے میں ساتھ نہیں دے گی جس سے وفاق کمزور ہو، ملک میں اس وقت سیاسی بحران ہے اس کو مشکلات سے نکالنا ہے؛ پیپلزپارٹی کے یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب

 پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے ساتھ کھیلنے والے آگ سے کھیل رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے یوم تاسیس کی تقریب سے ویڈیو لنک خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا معاشی فلسفہ ہے پسماندہ طبقے کو معاشی طو ر پر مضبوط کرنا ہے، ملک میں اس وقت سیاسی بحران ہے اس کو مشکلات سے نکالنا ہے، پیپلزپارٹی نے حال ہی میں حکومت کے ساتھ مل کر ایک آئینی ترمیم پاس کرائی، پیپلزپارٹی جب خود آئینی ترمیم لے کر آتی ہے تو انقلابی قانون سازی کرتے ہیں، 1973ء کے آئین کے بعد کسی ترمیم میں کوئی طاقت ہے تو وہ 18ویں ترمیم میں ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے بتایا کہ ن لیگ نے ایک وفد بھیجا اور کہا وہ آئینی ترمیم لے کر آنا چاہتے ہیں، حکومت چاہتی تھی آئینی عدالت اور آرٹیکل 243 کے ساتھ ساتھ ایگزیکٹو مجسٹری کا نظام لے کر آئے، حکومت چاہتی تھی جو آئینی تحفظ ہم نے صوبوں کو دلوایا تھا اس کو ختم کیا جائے، فخر سے کہہ سکتا ہوں آپ کی وجہ سے اس آئینی تحفظ کو چھیڑا نہیں گیا، حکومت اس مطالبے سے پیچھے ہٹی، ہم نےآئینی عدالت بنا کر چارٹر آف ڈیموکریسی کی شق پوری کردی اور صوبوں کو برابری کی نمائندگی دلوائی جو تاریخی کامیابی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عدالت نے قائد عوام کا عدالتی قتل کروایا، ہماری عدالت کی تاریخ آپ کے سامنے ہے، ہم امید کرتے ہیں آئینی عدالت ملک کے بڑے مسئلے کو دیکھے گی، ماضی میں عدالتوں پر سے اعتماد اٹھ گیا تھا، آئینی عدالت سے عام شہریوں کو مسائل سے فوری طور پر ریلیف ملے گا، کچھ لوگوں کی کوشش ہے کہ آئینی عدالت کو متنازعہ بنائے، امید ہے آئینی عدالت اپنے کردار سے ان لوگوں کو غلط ثابت کردے گی۔بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ قانون سازی کرنا پارلیمان کا کام ہے، اگر کوئی کام اتفاق رائے سے کیا گیا ہو تو نظر ثانی کا اختیار صرف پارلیمان کے پاس ہے، تاریخ بھری پڑی ہے کہ دوسرے ادارے نے پارلیمان کے دائرے میں آکر مداخلت کی، ہم اجازت نہیں دیں گے کہ کوئی اور ادارہ پارلیمان کے دائرے میں مداخلت کرے، عوام کا فیصلہ ہے کہ ہمارے فیصلے صحیح ہیں یا نہیں لیکن عدالت کا اختیار نہیں، آئین سازی کرنا پارلیمان کا اختیار ہے، کارکن کسی پروپیگنڈے پر توجہ نہ دیں، ہم نے آئینی عدالتیں بنائی ہیں، آپ کے حقوق کا تحفظ کرتا آرہا ہوں اور کرتا رہوں گا۔