ابھی تو میں نے کچھ نہیں کیا مزید زیادہ کرنا ہے، مریم نواز

0
57
pakalerts.pk
pakalerts.pk

کبھی کبھی سوچتی ہوں جو وزرائے اعلیٰ اور حکومتی عہدیدار اپنی توجہ فضول کاموں میں رکھتے ہیں، اُن میں حوصلہ کہاں سے آتا ہے کہ اپنا وقت برباد کررہے ہیں، کیا اللہ کو جواب نہیں دینا؟ لاہور میں تقریب سے خطاب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ میں نے تو ابھی کچھ بھی نہیں کیا اور زیادہ کرنا ہے، کبھی کبھی تو سوچتی ہوں کہ جو وزرائے اعلیٰ اور حکومتی عہدیدار اپنی توجہ جلسہ کرو، جلاؤ گھیرائو کرو، گالم گلوچ جیسے فضول کاموں میں رکھتے ہیں، اُن میں حوصلہ کہاں سے آتا ہے کہ وہ اپنا وقت برباد کر رہے ہیں، کیا اللہ کو جواب نہیں دینا۔لاہور میں خصوصی طلباء کے لیے کھانے کی فراہمی کے پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خصوصی بچے ہمارے ہیروزہیں، اللہ تعالیٰ نے خصوصی بچوں کو بہترین صلاحیتوں سے نوازا ہوتا ہے، نام نہیں لے سکتی کیوں کہ اجازت نہیں لیکن میں اپنے ایسے بھائی بہن کو جانتی ہوں جنہیں اللہ نے اقتدار کے اعلیٰ ترین مسند تک پہنچایا، اُن کی سب سے بڑی اولاد سپیشل چائلڈ ہے، اُن کی والدہ نے مجھے بتایا ہمارے گھر جو رحمت آتی ہے اور بلائیں ٹلتی ہیں وہ میری سپیشل اولاد کی وجہ سے ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی پوری ٹیم کو شاباش دیتی ہوں، وعدہ کیا تھا ہر ڈسٹرکٹ میں خصوصی بچوں کیلئے سینٹر آف ایکسی لینس بنائیں گے، ثانیہ عاشق نے قلیل مدت میں میرے خواب کو سچ کر دکھایا، خوش ہوں، اللہ نے میرا کیا ہوا وعدہ بہت قلیل عرصے میں پورا کیا، 28 ڈسٹرکٹس میں خصوصی بچوں کیلئے سینٹر آف ایکسی لینس مکمل کر لیا گیا ہے، ہمارے پاس خصوصی بچوں کیلئے پورے پنجاب میں 303 ادارے ہیں، ہم تمام 303 اداروں کی تعمیر نو کرنے جا رہے ہیں، خصوصی بچوں کی مائیں شکریہ نہ بولیں کیوں کہ یہ بطور وزیراعلیٰ میرا فرض ہے، خصوصی بچے کی وجہ سے گھر میں رحمت اور برکت ہوتی ہے، جن والدین کے خصوصی بچے ہیں سب کی ہمت کو داد دیتی ہوں۔مریم نواز کہتی ہیں کہ ریاست کو اپنے شہریوں کی ہر ضرورت کی فکر ہے، سڑکیں، صفائی، علاج، تعلیم، صحت، کھیتی باڑی، روٹی اور سبزیوں کی کیا قیمت ہے، ان تمام چیزوں کی فکر ہے، لوگ وزیراعلیٰ کے عہدے کو تفریح کا عہدہ سمجھتے ہیں، دیکھا جائے تو وزیراعلیٰ کے عہدے سے بڑی ذمہ داری کوئی نہیں، بڑا عہدہ خدمت کے بغیر ایک بوجھ ہے، پنجاب کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سکول میل پروگرام شروع کیا ہے، چاہتی ہوں پنجاب کے ہر گھر کے دروازے پر دستک دے کر پوچھا جائے کہ اگر کوئی سپیشل بچہ ہے تو حکومت کے ادارے میں داخل کرائیں، ہر سکول کو سی سی ٹی وی مانیٹر بسیں دیں گے، 60 بسیں آچکی ہیں، خصوصی بچوں کو جب بہترین ماحول ملتا ہے تو ماں باپ پر بوجھ نہیں بنتے، ہم 70 سے 75 ہزار خصوصی افراد کو ہمت کارڈ دے رہے ہیں، ان ہزاروں خصوصی بچوں کو بھی ہمت کارڈ دیں گے۔