لاہور / اسلام آباد: بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد دریائے راوی، چناب اور ستلج میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی، جس سے بستیاں ڈوب گئیں، گلیاں، بازار اور مکانات زیرِ آب آگئے۔
سیلابی ریلے نے وزیرآباد کے مختلف علاقے ڈبو دیے جبکہ کرتارپور کوریڈور اور کرتارپور دربار بھی زیرِ آب آگئے۔ دربار کے 1600 ملازمین کو بروقت ریسکیو کر لیا گیا۔ ہیڈ قادر آباد پر پانی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے منڈی بہاوالدین اور علی پور چٹھہ کے مقام پر دو شگاف ڈالے گئے۔
حکام کے مطابق دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر 70 سال بعد اور شاہدرہ پر 37 سال بعد پانی آیا ہے۔ دریائے چناب میں طغیانی سے پلکھو نالا اوور فلو کرگیا جس سے وزیرآباد شہر اور دیہی علاقے ڈوب گئے۔ گوجرانوالہ میں کئی ایکڑ زرعی زمین زیرِ آب آگئی جبکہ مظفرگڑھ، حافظ آباد اور دیگر اضلاع میں دیہات متاثر ہوئے۔
متاثرہ علاقے اور نقصانات
- نارووال میں ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ، کئی دیہات ڈوب گئے اور شکرگڑھ-نارووال روڈ بند ہوگئی۔
- قلعہ احمد آباد میں ریلوے ٹریک متاثر ہونے سے ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہوگئی۔
- فیصل آباد (تاندلیانوالہ) میں 25 دیہات کو خطرہ، متاثرین کی ریلیف کیمپس منتقلی شروع۔
- بہاول نگر میں کپاس اور دھان کی فصلوں کو نقصان، رابطہ سڑکیں بہہ گئیں۔
- وہاڑی (میلسی) میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے کئی بستیاں ڈوب گئیں۔
- عارف والا میں دریائی بیلٹ کے دیہات متاثر۔
- سیالکوٹ میں ریکارڈ بارش اور دریائے چناب میں شدید طغیانی سے نالے ابل پڑے، شہر کے کئی علاقے ڈوب گئے، بجلی اور انٹرنیٹ سروس معطل۔
حکومتی اقدامات
- لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال اور اوکاڑہ میں فوج طلب کر لی گئی۔
- وزیراعظم نے گجرات، سیالکوٹ اور لاہور میں ممکنہ اربن فلڈنگ کے پیشِ نظر فوری اقدامات کی ہدایت جاری کی۔
- ضلعی انتظامیہ نے بندوں کی مضبوطی کے کام شروع کر دیے۔
- این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب میں ہیڈ خانکی پر 10 لاکھ کیوسک کا ریلہ موجود ہے اور مزید طغیانی کا خدشہ ہے۔ اب تک 2 لاکھ 10 ہزار افراد کو ریسکیو کیا جاچکا ہے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ اگلے دو روز میں مزید خطرناک صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، تاہم متعلقہ ادارے ہر طرح کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔




























