ایشیا میں سب سے قدیم انسانی ممی فیکیشن کے شواہد دریافت – ماہرین

0
55
www.pakalerts.pk
www.pakalerts.pk

ایک نئی تحقیق کے مطابق قدیم ایشیا کے شکاری و خانہ بدوش انسان اپنے مردوں کو دفنانے سے پہلے دھواں اور حرارت کے ذریعے خشک کرتے تھے۔ یہ عمل تقریباً 14 ہزار سال قبل ہوتا رہا اور یہ انسانی ممی فیکیشن کے سب سے پرانے شواہد سمجھے جا رہے ہیں۔

قدیم تدفینی طریقے

دنیا بھر میں مختلف ادوار میں انسانی جسم کو محفوظ رکھنے کے کئی طریقے اپنائے گئے ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • حرارت اور دھوئیں کے ذریعے خشک کرنا
  • نمک یا جمی ہوئی برف کا استعمال
  • ایمبامنگ (کیمیائی تحفظ)

چین، ویتنام اور انڈونیشیا میں ملنے والے یہ قدیم ڈھانچے بظاہر ممی نہیں لگتے تھے، لیکن ہڈیوں پر جلے کے نشانات اور ان کی دفنائی گئی حالت نے ظاہر کیا کہ لاشوں کو کم درجہ حرارت پر لمبے عرصے تک دھوئیں کے سامنے رکھا گیا تھا، جس سے وہ خشک ہو کر محفوظ ہو گئیں۔

دیگر ثقافتوں سے مماثلت

یہی طریقہ تاریخی طور پر کچھ آسٹریلوی قبائل اور آج بھی پاپوا نیو گنی کے کچھ علاقوں میں استعمال ہوتا ہے۔ حالیہ دریافت شدہ ڈھانچوں کی جھکی ہوئی، سخت سکڑی ہوئی حالت جدید دھواں سے خشک شدہ لاشوں جیسی تھی، جس سے ماہرین کو اس بات کا شبہ ہوا کہ قدیم لوگ بھی یہی عمل اپناتے تھے۔

اس سے پہلے سب سے پرانے شواہد چلی کے چنچورو قبیلے (تقریباً 7 ہزار سال پہلے) اور قدیم مصر (تقریباً 4,500 سال پہلے) سے ملے تھے۔ مگر یہ نئی دریافت اس روایت کو ہزاروں سال پیچھے لے جاتی ہے۔

انسانی سوچ اور عقائد کی جھلک

تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر شیاؤ چون ہنگ (آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی) کے مطابق:

"یہ روایت ایک ابدی انسانی خواہش کی عکاس ہے — یہ امید کہ مرنے کے بعد بھی اپنے عزیزوں کے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں جڑے رہا جا سکے۔”

ترکی کی بِلکینٹ یونیورسٹی کی پروفیسر ایما بائیسال کہتی ہیں کہ یہ شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قدیم انسانوں کے پاس اپنے مردوں سے متعلق پیچیدہ عقائد اور رسومات موجود تھیں۔

کہاں کہاں سے ملے یہ شواہد؟

تحقیقی ٹیم نے 54 قدیم قبریں جانچیں جو 11 مقامات سے ملی تھیں:

  • جنوبی چین
  • شمالی ویتنام
  • سماٹرا (انڈونیشیا)

مزید اسی نوعیت کی قبریں ماضی میں ملائیشیا کے سراواک، انڈونیشیا کے جاوا، اور فلپائن کے پلاوان میں بھی دریافت ہو چکی ہیں۔

یہ ڈھانچے اکثر غاروں، چٹانوں کے نیچے یا سمندری خولوں کے ڈھیروں میں ملے ہیں۔ ان کا سخت سکڑاؤ کئی سالوں تک ماہرین کے لیے معمہ رہا، لیکن اب ممی فیکیشن کے شواہد نے اس راز سے پردہ اٹھایا ہے۔


خلاصہ: یہ دریافت نہ صرف انسانی تاریخ کو نئے زاویے سے دکھاتی ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ قدیم انسانوں میں عقائد، رسم و رواج اور اپنے مردوں کے ساتھ رشتہ قائم رکھنے کی خواہش ہزاروں سال پرانی ہے۔

کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس موضوع پر ایک آسان انفографک بنا دوں جس میں ممی فیکیشن کے مختلف طریقے اور ان کی ٹائم لائن دکھائی جائے؟