’’حکمران سیدھے نہ چلیں تو ہماری ذمہ داری ہے سیدھا راستہ دکھانا‘‘ — مولانا فضل الرحمان

0
107
pakalerts.pk
pakalerts.pk

کراچی (18 ستمبر 2025): جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر حکمران غلط راہوں پر چلیں تو ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ انہیں درست راستے پر لایئں۔ انہوں نے یہ بات کراچی میں اپنے جلسے سے خطاب کے دوران کہی اور اعلان کیا کہ چاروں صوبوں میں عوامی امن مارچ منعقد کیے جائیں گے تاکہ قوم کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد کیا جا سکے اور عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امن مارچ کوئی نیا تجربہ نہیں — ماضی میں بھی وہ مختلف مواقع پر امن کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں — اور اب بھی ان کی صدائیں چترال سے تربت، کشمور سے کراچی تک بلند ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کی چوری ہوتی رہی، مگر وہ برداشت کرتے رہے اور سیاسی تحریک جاری رکھی۔ اگر ضرورت پڑی تو وہ ملک بھر سے لوگوں کو سمیٹ کر اتنا زور دیں گے کہ اسلام آباد مکمل طور پر بھر جائے گا۔

انہوں نے پاکستان کے اندر موجود اختلافات اور امت مسلمہ کی بکھری ہوئی صورت حال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ مولانا نے کہا کہ جب تک مسلم اُمہ اندرونی مقابلوں میں مصروف رہے گی، بیرونی طاقتیں ہمیں قابو میں رکھنے میں کامیاب رہیں گی۔ انہوں نے اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور اختلافات کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اسلامی کانفرنس سے توقعات کے باوجود عملی یکجہتی کم ہی نظر آتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم بھی کیا اور کہا کہ اس طرح کے معاہدے دونوں ممالک کو اسلامی دنیا میں ایک فعال اور مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ انہوں نے معاہدے کو خوش آئند قرار دیا اور اُمید ظاہر کی کہ یہ دوطرفہ تعلقات اور خطے کے امن و استحکام کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔