ہیروشیما برسی: جوہری ہتھیاروں سے دنیا کو لاحق وجودی خطرے کا خاتمہ ضروری

0
88

آج سے 80 برس قبل، دوسری عالمی جنگ کے دوران، امریکہ نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹمی بم گرایا، جس سے دنیا ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔ اگرچہ یہ شہر دوبارہ بس چکا ہے، مگر ایٹمی جنگ آج بھی انسانیت اور زمین کے لیے ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے۔

یہ بات اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ سے متعلق اعلیٰ نمائندہ، ازومی ناکامتسو نے ہیروشیما میں واقع امن یادگار پر منعقدہ تقریب میں کہی، جہاں ہر سال ایٹمی حملے کے متاثرین کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔

یہ یادگار اس مقام کے قریب واقع ہے جہاں پہلا ایٹمی بم گرا تھا، اور اب واحد نشان کے طور پر موجود ہے۔

تقریب میں ایٹمی حملے کے متاثرین، ان کے عزیز، دنیا بھر کے 120 ممالک و تنظیموں کے نمائندگان سمیت 55 ہزار افراد نے شرکت کی۔

امن کا لازوال پیغام

اس موقع پر ازومی ناکامتسو نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کا پیغام پڑھا، جس میں کہا گیا کہ یہ تقریب ان افراد کی یاد میں ہے جو دنیا کے پہلے ایٹمی حملے کا نشانہ بنے۔

انہوں نے ناگاساکی پر تین دن بعد گرائے گئے بم سے ہونے والی تباہی اور ان میں زندہ بچ جانے والوں، جنہیں جاپان میں "ہیباکوشا” کہا جاتا ہے، کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ زندہ بچ جانے والے اب امن کی علامت اور اخلاقی طاقت کا درجہ رکھتے ہیں۔ اگرچہ ان کی تعداد کم ہو رہی ہے، لیکن ان کی گواہیاں اور پیغام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

امید کی روشنی

انہوں نے مزید کہا کہ 6 اگست 1945 کو ہیروشیما پلک جھپکتے ہی کھنڈر بن گیا اور ہزاروں جانیں چلی گئیں۔

انسانیت ایک ایسی حد پار کر گئی جہاں سے واپسی ممکن نہ تھی۔

اگرچہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ شہر کبھی بحال نہیں ہوگا، لیکن ہیروشیما کے لوگوں نے ان اندازوں کو غلط ثابت کیا۔ انہوں نے نہ صرف شہر کو بلکہ امید کو بھی دوبارہ زندہ کیا اور ایٹمی ہتھیاروں سے پاک دنیا کا خواب دیکھا۔

ذمہ داری کا تقاضا

ناکامتسو نے یاد دلایا کہ اس سال اقوام متحدہ کے قیام کو بھی 80 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ رواں برس، ایٹمی حملے سے بچ جانے والے ایک پھل دار درخت کے بیج اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں بوئے گئے۔ یہ صرف بقا کی علامت نہیں بلکہ انسانی حوصلے اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کی عکاسی بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سالگرہ یہ باور کراتی ہے کہ اس ادارے کو جنگوں کو روکنے، انسانی وقار کو بچانے اور ماضی کے سانحات کی تکرار سے بچنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ مگر آج ایٹمی جنگ کا خطرہ اور عالمی سطح پر سیاسی تقسیم بڑھ رہی ہے۔ جن ہتھیاروں نے ہیروشیما اور ناگاساکی کو تباہ کیا، وہ ایک بار پھر طاقت کے مظاہرے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کی ضرورت

ہیروشیما کے میئر، کازومی ماتوسی نے دنیا بھر میں جاری جنگوں، خصوصاً یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی مثال دیتے ہوئے ایٹمی ہتھیاروں کی بڑھتی مقبولیت پر تشویش ظاہر کی۔

ناکامتسو نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے عالمی معاہدوں، خاص طور پر عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو مضبوط کرنا ہوگا۔ دنیا کے ہر ملک کو ہیروشیما کے حوصلے اور ہیباکوشا کی دانشمندی سے سیکھنا ہوگا۔ صرف ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ ہی ہمیں اس خطرے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔