عمران خان نے کہا ہے کہ میں اس "ڈاکو اور ڈفر اتحاد” کے سامنے کبھی نہیں جھکوں گا اور "عاصم لاء” کو کبھی قبول نہیں کروں گا۔ چاہے ساری زندگی جیل میں گزارنی پڑے، میں تیار ہوں۔
اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 5 اگست کے احتجاج میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت ظلم کے تاریک دور میں امید کی کرن ہے۔ قوم نے ظلم و جبر، چھاپوں اور گرفتاریوں کے باوجود باہر نکل کر اپنا آئینی حق ادا کیا، یہ بے مثال جذبہ ہے۔
خصوصاً پنجاب کی عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے خوف کا حصار توڑ دیا۔ سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے جو لوگ نکلے، وہ سب شاباش کے مستحق ہیں۔
رہنماؤں پر دباؤ کے باوجود ملک گیر احتجاج عوامی بیداری کی علامت ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں اس سے بدتر دور کسی مارشل لاء میں بھی نہیں آیا۔ "عاصم لاء” میں جو مظالم ہو رہے ہیں، ان کی مثال صرف یحییٰ خان کے دور سے دی جا سکتی ہے، جب مجیب الرحمٰن کو روکنے کے لیے عوام کی رائے کو روند ڈالا گیا اور ملک دو ٹکڑے ہوا۔
آج جو کچھ ملک میں ہو رہا ہے، وہ سقوطِ ڈھاکہ کی یاد تازہ کرتا ہے۔ تب بھی آئین و جمہوریت کو روند کر، میڈیا اور اظہار کی آزادی چھین لی گئی تھی۔ ہمیں اس جبر کے نظام کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔
ہماری تحریک کا اگلا سنگ میل 14 اگست ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ہمارے بڑوں نے انگریزوں سے آزادی لی، لیکن آج تک "حقیقی آزادی” نہیں ملی۔ جب تک آئین و قانون کی حکمرانی بحال نہیں ہوگی، تب تک آزادی ادھوری رہے گی۔
قوم کو مافیا سے نجات حاصل کرنی ہے، اور نجات صرف قربانی سے ممکن ہے۔ میں خود قید میں ناقابلِ بیان حالات کا سامنا کر رہا ہوں۔ دیگر قیدی اعتراف کرتے ہیں کہ مجھ جیسا سلوک کسی عام قیدی سے نہیں ہوتا۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو بھی بدترین حالات میں رکھا جا رہا ہے، لیکن میں اس قربانی سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
"ڈاکو، ڈفر الائنس” کے سامنے کبھی نہیں جھکوں گا، اور "عاصم لاء” کو تسلیم نہیں کروں گا۔ اگر زندگی بھر بھی جیل میں رہنا پڑے، میں تیار ہوں۔ دنیا کی کوئی طاقت بہادر قوم کو شکست نہیں دے سکتی۔
پاکستانیوں! جیل کے خوف کو اپنے دل سے نکال دو۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو بھی کہتا ہوں کہ جیل سے ڈرنے کے بجائے عوام کی رہنمائی کریں۔ خیبرپختونخوا میں جاری آپریشن کا مقصد صرف تحریک انصاف کو دبانا ہے، جیسا کہ مشرف دور میں اے این پی کے ساتھ ہوا۔
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ فوجی آپریشن کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتے، بلکہ نفرت، دہشت اور تباہی کو بڑھاتے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں دوبارہ کوئی آپریشن نہیں ہونا چاہیے۔ وہاں کے مسائل صرف مقامی نمائندوں کی بات چیت سے حل ہو سکتے ہیں۔
افغان مہاجرین کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ بھی قابل افسوس ہے۔ بغیر کسی ردعمل کے، اپنے لوگوں پر بندوق تاننا مسائل کو بڑھا رہا ہے۔
ایک بار پھر واضح کر دوں، جن ممبران اسمبلی کو ناحق نااہل کیا گیا، ان کی نشستوں پر کوئی انتخاب نہیں لڑے گا۔ ضمنی انتخاب میں حصہ لینا ان کے ساتھ غداری ہو گی۔
ضمنی الیکشن میں شریک ہونا، تحریک انصاف کے وفاداروں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہو گا۔ میں آل پارٹیز کانفرنس کے کامیاب انعقاد اور تحریک تحفظ آئین کے قائدین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے قومی مسائل کے حل کے لیے اہم تجاویز دی ہیں۔




























